تہجد کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنا

سوال : جو وضو تہجد کی نماز کے لئے کیا جاتا ہے اس سے کیا فجر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے یا علحدہ وضو کرنے کی ضرورت ہے ۔اس طرح نماز جنازہ کے لئے جو وضو کیا جاتا ہے اس سے فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ احمد وسیم، حیدرآباد

سوال : جو وضو تہجد کی نماز کے لئے کیا جاتا ہے اس سے کیا فجر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے یا علحدہ وضو کرنے کی ضرورت ہے ۔اس طرح نماز جنازہ کے لئے جو وضو کیا جاتا ہے اس سے فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
احمد وسیم، حیدرآباد
جواب : وضو چاہے کسی غرض سے کیا جائے اس سے فرص و نفل وغیرہ ہر قسم کی نماز پڑھنا درست ہے ۔ مزید علحدہ وضو کی ضرورت نہیں۔ ردالمحتار ج : 1 ص : 75 کتاب الطھارۃ میں ہے۔ کل وضو تصح بہ الصلوٰۃ۔ اسی صفحہ میں ہے ۔
ان الصلوۃ تصح عندنا بالوضو’ ولولم یکن منویا۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں تہجد کی نماز اور نماز جنازہ کے لئے جو وضو کیا جاتا ہے اس سے ہر قسم کی فرض و نفل نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

مسجد منہدم کر کے متبادل جگہ فراہم کرنا
سوال : ہمارے موضع کی جامع مسجد صدیوں قدیم ہے ۔ اب شاہراہ کی توسیع کے ضمن میںمذکورہ مسجد شہید کرکے اس کے متبادل دوسرے مقام پر مسجد کی تعمیر کا حکومت کے ذمہ داروں کا پیشکش ہے‘ موضع کے مسلمانوں کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ان حالات میں کیا مذکورہ پیشکش کو قبول کر کے متبادل نئی جگہ مسجد کی تعمیر کو قبول کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ بعض حضرات کی رائے ہے کہ حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے مسجد کو توسیع میں شامل کر کے دوسرے مقام پر مسجد کی تعمیر کرنا چاہئے۔
محمد عبدالسلام،خلوت
جواب : ایک مرتبہ مسجد قائم ہوجانے کے بعد اس کو کسی اور مقصد کیلئے اس کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔ وہ حصہ تا قیام قیامت مسجد ہے اگر وہ ویران ہوجائے تب بھی اس کا یہی حکم ہے۔ ولو خرب ماحولہ و استغنیٰ عنہ یبقی مسجدا عندالامام والثانی ابدا الٰی قیام الساعۃ (ولو خرب ماحولہ) ای ولو مع بقائہ عامرا و کذا لو خرب و لیس لہ ما یعمر بہ و قد استغفر الناس عنہ لبناء مسجد آخر۔ (شامی ص : 382 کتاب الوقف)
صورت مسئول عنہا میں جامع مسجد کو توسیع میں منہدم کرکے اس کی جگہ شاہراہ کی تعمیر وغیرہ شرعاً جائز نہیں۔ مذکورہ در سوال پیشکش کو قبول کرنے کا نہ مسلمانوں کو کوئی حق ہے نہ ہی کسی محکمہ کو اس کا اختیار ہے۔

تعلیمی کورس کی وجہ جماعت چھوٹنا
سوال : ہم دنیاوی تعلیمی کورس کر رہے ہیں جس کا وقت عصر کی اذاں سے لیکر مغرب سے پہلے تک ہے جس کی وجہ سے ہماری عصر کی جماعت چھوٹ رہی ہے۔ ہمارے گاؤں کی مسجد تین منزلہ ہے۔ نیچے کے حصے میں جماعت ہوتی ہے‘ اوپر کے دو حصے خالی رہتے ہیں۔ اس کورس سے واپسی کے بعد کیا ہم چند طلباء مل کر اوپر کے منزلوں میں جماعت بناسکتے ہیں یا نہیں یا انفرادی پڑھنا بہتر ہے ۔ براہ کرم اس کا جواب جلد از جلد شائع کریں کیونکہ جتنی دیر ہوتی رہے گی اتنی جماعتیں ہماری چھوٹتی رہیں گی۔
محمد عبداللہ ، آدرش نگر
جواب : اگر کسی وجہ سے جماعت چھوٹ جائے تو پہلی جماعت کے امام کے مقام سے ہٹ کر دوسری جگہ جماعت ثانی بنائی جاسکتی ہے۔

افطار پارٹی میں عقیقہ کرنا
سوال : میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میں اور میری بیوی اس سال حج کیلئے جارہے ہیں۔ ہمارا عقیقہ نہیں ہوا ہے، ہم کو عقیقہ کر کے جانا ضروری ہے کیا ؟ ہم کو تو نہ تاریخ معلوم ہے اور نہ دن۔ کیا ہم کسی بھی دن یا تاریخ میں کرسکتے ہیں ؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میری اولاد کا بھی عقیقہ نہیں ہوا، کیا ان سب کا عقیقہ کرنا میرا فرض ہے یا نہیں۔ ان سب کا عقیقہ کرنا ہے تو کس طرح کریں۔ کیا 7 واں دن دیکھنا ضروری ہے؟ یہ سب کا عقیقہ ایک دن کرسکتے ہیں کیا ؟ لڑکے لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ میرا فرض ہے یا وہ عقیقہ کرسکتے ہیں ؟
میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ افطار پارٹی میں میرا اور میری بیوی کا عقیقہ کرنا چاہتا ہوں ، افطار پارٹی کا رقعہ دینا چاہتا ہوں ۔ کیا رقعوں میں عقیقہ بھی لکھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ میں نہیں لکھنا چاہتا ہوں۔
میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ بیٹے کے اوپر ماں باپ بھائی بہن کا حق زیادہ ہے یا سسرال والوں کا ؟ اپنے مکان میں دعوت دینا ہوٹل میں دعوت دینا ان لوگوں کا زیادہ خیال کرنا ہر وقت سسرال والوں کو خوش کرنا ماں باپ کا خیال کم ، سسرال والوں کا زیادہ ہے ۔ میرے چار سوالوں کا جواب اسلامی نقطہ نظر سے شرعی احکام بتائیں ؟
نام مخفی
جواب : عقیقہ مستحب ہے۔ ساتویں دن کرنا بہتر ہے ۔ اگر دن ، تاریخ معلوم نہیں ہے تو کبھی بھی کرسکتے ہیں ۔ حج کو جانے سے قبل عقیقہ کرلینا کوئی ضروری نہیں ۔ اس طرح اولاد بالغ ہوچکی ہے تو اب وہ خود عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں گے ۔ ماں باپ پر اولاد کا عقیقہ کرنا کبھی بھی فرض نہیں۔ وہ صرف مستحب ہے، تاہم عقیقہ کرنا چاہئے ۔ تاکہ جان کا صدقہ و فدیہ ہوجائے ۔ افطار پارٹی میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے ۔ رقعہ میں عقیقہ لکھنا کوئی ضروری نہیں۔ ماں باپ اور اولاد سب کا ایک ہی دن عقیقہ کرنا چاہتے ہیں تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔
حسن سلوک کے زیادہ حقدار حقیقی ماں باپ اور قریبی رشتہ دار بھائی بہن ہیں۔ سسرال والوں کی دلجوئی ٹھیک ہے ۔ ساتھ میں ماں باپ کا ان سے زیادہ خیال رکھیں۔ کیونکہ ان کا حق ان کی خدمت ، ان کی دلجوئی سب پر مقدم ہے۔

زکوٰۃ کی رقم مسجد میں صرف کرنا
سوال : ہم دو بھائی ہے‘ سب کا بینک میں اکاؤنٹ ہے‘ والد صاحب اور والدہ کا ایک اکاؤنٹ ہے۔ والد صاحب اور والدہ کے اکاؤنٹ میں ماشاء اللہ سے 47133 روپیہ اور والدہ کے پاس 5 تولے سونا ہے اور 5 تولے چاندی ہے۔ (جو استعمال میں ہے) جس پر گزشتہ سال زکوٰۃ نکالی جاچکی ہے ۔ اس سال کیا حساب سے نکالنا ؟ اور 8 گرام سونے کے 6 سکے ہے (جو استعمال میں نہیں ہے)۔ ایک 200 Sq. Yrds. کا پلاٹ ہے جہاں پرمکان بناکر رہنے کا ارادہ ہے بھی نہیں بھی فروخت کردینے کا ارادہ بھی ہے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا وہاں آبادی زیادہ نہیں ہے ۔ ایک سال میں آبادی بس جائے گی ‘ تب انشاء اللہ مکان بنائیں گے ۔ جس کی قیمت 460000 ہے۔ بھائی کے اکاؤنٹ مں ماشاء اللہ سے 190-541 روپیہ ہے۔ میرے اکاؤنٹ میں ماشاء اللہ سے 28,341 روپیہ ہے۔ برائے مہربانی کون کون کتنی کتنی زکوۃ نکالے جواب عنایت فرمائے اور کیسے نکالے اس کا طریقہ بھی بتائے تو عین نوازش ہوگی ؟کیا ہم اپنی زکوٰۃ کی رقم مسجد کو دے سکتے ہیں ؟
نام …
جواب : صورت مسئول عنہا میں زمین کے پلاٹ پر مکان بناکر رہنے یا کرایہ پر دینے کی نیت ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں۔ اگر فروخت کرنے کی نیت سے خریدا گیا تو اس کی قیمت پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
(2 والدہ کے پاس موجود تمام سونے کی (استعمال میں ہو یا نہ ہو) قیمت معلوم کر کے ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا لازم ہے۔ (3 والد و والدہ کے اکاونٹ میں جمع رقم پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ عائد ہوگی ۔ (4 آپ اور آپ کے بھائی کے اکاؤنٹ میں جمع رقم کا بھی ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دینا ہوگا۔ (5 زکوٰۃ کی رقم مستحق ‘ زکوٰۃ کی ملکیت میں دینا لازم ہے۔ اس رقم سے مسجد کی ضروریات کی تکمیل درست نہیں ۔ اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔

حقوق العباد چھوڑ کر اعتکاف بیٹھنا
سوال : مجھے چار چھوٹی لڑکیاں ہیں‘ اور نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے شوہر روزانہ کی اساس پر قلیل اجرت پر کام کرتے ہیں جس سے گھر کے اخراجات اور مکان کے کرایہ کی بمشکل پابجائی ہوتی ہے ۔ ایسے میں میرے شوہر اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے محلہ کی مسجد کو چھوڑ کر کسی دور دراز مسجد میں اعتکاف بیٹھتے ہیں۔ نیز اپنے ماں باپ بھائی بہنوں کے حقوق سے بالکل بے بہرہ ہیں جبکہ ہم تمام گھر والے نہایت ہی مفلسی اورکسمپرسی کے دن گزار رہے ہیں۔ کیا میرے شوہر کا مندرجہ بالا عمل شرعاً جائز ہے ؟ امید ہے کہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل تفصیل سے آگاہ فرمائیں گے۔
کنیزہ فاطمہ، خلوت
جواب : رمضان المبارک کے آخری دہے میں اعتکاف بیٹھنا سنت موکدہ علی الکفایۃ ہے یعنی محلہ میں سے ایک یا چند اشخاص اعتکاف کا اہتمام کرلیں تو تمام اہل محلہ کے ذمہ سے ساقط ہوجاتاہے اور اگر ایک بھی اعتکاف نہ رہے تو سب کو ترک سنت کا گناہ ہوگا ۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 2 ص : 486 مطبعہ دارالفکر لبنان باب الاعتکاف میں ہے۔ ثلاثۃ اقسام (واجب باالنذر) بلسانہ و بالشروع و بالتعلیق ذکرہ ابن الکمال (وسنۃ موکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان) ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان و غیرہ۔
اور بیوی و نابالغ ضرورتمند اولاد کا نفقہ (کھانا ‘ کپڑا اور مکان کی فراہمی) باپ پر واجب ہے۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد 3 ص 628 مطبعہ دارالفکر لبنان باب النفقہ میں ہے۔ (ھی الطعام و الکسوۃ والسکنی فتجب للزوجۃ) بنکاح صحیح۔ اور ص : 672 میں ہے : (و تجب) النفقۃ بأنواعھا علی الحر (لطفلہ) یعم الأنثی والجمع (الفقیر) الحر۔
پس صورت مسئول عنہا میں حسب صراحت سوال شوہر پر بیوی بچیوں اور ضرورتمند ماں باپ کا نفقہ واجب ہے ۔ واجب کو ترک کر کے سنت موکدہ علی الکفایۃ یعنی اعتکاف کا اہتمام کرنے سے نفقہ کا وجوب اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا۔ شوہر کو چاہئے کہ پہلے وہ اپنے ذمہ واجب شدہ نفقہ کوادا کرنے کی فکر کرے‘ جب وہ اسکی ادائیگی سے فارغ ہوجائے تو دیگر سنت مثلا اعتکاف وغیرہ کا اہتمام کرے۔

دعاء میں صیغہ کی تبدیلی
سوال : ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پانچوں وقت کی نماز پڑھاتے ہیں۔ رہا سوال یہ کہ قرآن پاک میں لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ لکھا ہے۔ لیکن ہمارے مسجد کے امام صاحب نماز کے بعد دعا کرتے وقت لا الہ الا انت سبحنک انا کنا من الظلمین پڑھتے ہیں۔ ان دونوں دعاؤں میں کونسی دعا پڑھنا درست ہے۔ براہ کرم ہمیں شرعی طور پر اس مسئلہ کا درست حل دیجئے مہربانی ہوگی ؟
نام ندارد
جواب : ’’ انی کنت من الظلمین ‘‘ میں ’’ انی کنت ‘‘ واحد متکلم کا صیغہ ہے جس کے معنی میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں اور ’’ انا کنا ‘‘ کے ساتھ پڑھیں تو اس وقت معنی یہ ہوں گے کہ ہم اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ امام صاحب دعاء میں ’’ انا کنا ‘‘ پڑھتے ہیں تو مصلیوں کو اس میں شامل کرتے ہوئے جمع کا صیغہ پڑھتے ہیں جو کہ درست ہے اور اگر قرآن میں جو الفاظ واحد متکلم کے ساتھ آئے ہیں اس سے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ جب قرآنی آیت میں واحد متکلم کے صیغہ کو جمع کے ساتھ بطور دعاء پڑھتے ہیں اور مصلیوں کو شک و شبہ پیدا ہورہا ہے تو بہتر یہی ہے کہ قرآنی آیت کو بلفظہ پڑھا جائے۔

TOPPOPULARRECENT