Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / تہذیب ، تمدن و خوش اخلاقی ، نواب شاہ عالم خاں کی شخصیت کے انمٹ نقوش

تہذیب ، تمدن و خوش اخلاقی ، نواب شاہ عالم خاں کی شخصیت کے انمٹ نقوش

Mr. Justice Syed Shah Mohammed Quadri former Judge of Supreme Court of India addressing at the condolence meeting of Nawab Shah Alam Khan, an industrialist, philanthropist and a pioneer in the field of minority education died recently in Hyderabad on Satutrday.Pic:Style photo service.

تعلیمی اداروں کا قیام نواب صاحب مرحوم کا اہم کارنامہ ، تعزیت جلسہ سے جسٹس سید شاہ محمد قادری اور جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 4 نومبر ( سیاست نیوز ) سابق جج سپریم کورٹ جسٹس سید شاہ محمد قادری نے حیدرآباد کی ایک وضعدار شخصیت نواب شاہ عالم خان کو ایک مثالی اور حیدرآباد ی تہذیب کی نمائندہ شخصیت قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ۔ جسٹس سید شاہ محمد قادری آج انوارالعلوم کالج میں منعقدہ ڈاکٹر شاہ عالم خان کے جلسہ تعزیت سے صدارتی خطاب کر رہے تھے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت اور خطاب کیا ۔ جسٹس سید شاہ محمد قادری نے کہا کہ نواب شاہ عالم خان حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ شخصیت تھے ۔ وہ انتہائی خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے ۔ ان سے ملاقات کے بعد ہر شخص خوشگوار یادیں اپنے ساتھ لیجاتا ۔ ہر چھوٹا شخص بھی ان سے ملاقات کے بعد خود کو بڑا محسوس کرنے لگتا ۔ انہوں نے کہا کہ نواب شاہ عالم خان نے اپنی زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اور وہ آج بھی ایک مثال بنے ہوئے ہیں۔ جسٹس سید شاہ محمد قادری نے کہا کہ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ چاہے وہ کتنے ہی بڑے رتبے پر پہونچ جائے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا میں اچھے اور خیر کے کام کئے جائیں تاکہ دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب ہوسکے اور نواب شاہ عالم خان نے اسی کی مثال قائم کی ہے ۔ وہ انتہائی مہذب اور متمدن شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے نواب شاہ عالم خان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کے قائم کردہ ادارے ملت کے بہترین اداروں میں شامل ہیں اور انوارالعلوم کالج اس کی ایک بہترین مثال ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ نواب شاہ عالم خان نے ملت کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے والے ادارے قائم کرتے ہوئے ایک مثال دنیا کے سامنے پیش کی تھی ۔ انہوں نے جناب محبوب عالم خاں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ انہوں نے اپنے والد کا تعزیتی جلسہ خود ان کے قائم کردہ ادارہ میں منعقد کرتے ہوئے ایک مثال پیش کی ہے اور یہ مرحوم نواب شاہ عالم خاں کیلئے بہترین خراج عقیدت ہے ۔ اس طرح سے نئی نسل کیلئے ایک مثال قائم ہوئی ہے اور وہ بھی آئندہ یہی طریقہ کار اختیار کرسکتے ہیں۔ ایڈیٹر سیاست نے ڈاکٹر وزارت رسول خاں مرحوم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ مرحوم ڈاکٹر وزارت رسول خان نے بھی تعلیمی اداروں کا جال بچھاتے ہوئے ملت کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں جو تادیر یاد رکھی جائیں گی ۔ محترمہ شاداں وزارت رسول خان نے اپنے خطاب میں نواب شاہ عالم خاں سے اپنی شخصی وابستگی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مرحوم انہیں اپنی دختر کی طرح سمجھتے تھے ۔ محترمہ شاداں وزارت رسول خاں نے کہا کہ نواب شاہ عالم خاں سے تعلق کی بنا پر ہی انہوں نے اپنے ایک فرزند کا نام شاہ عالم رسول خان رکھا ہے اور آج تک بھی انہوں نے اپنے فرزند کو کبھی نام سے نہیں پکارا ہے ۔ انہوں نے مرحوم کی تعلیمی و سماجی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ علاوہ ازیں تعزیتی جلسہ سے پدم شری جناب مجتبی حسین ‘ ڈاکٹر مصطفی کمال ‘ محترمہ شاداں وزارت رسول خان ‘ جناب امتیاز الدین ‘ محترمہ آمنہ انصاری ‘ شریمتی لکشمی دیوی راج اور نواب شاہ عالم خان کے شخصی معالج ڈاکٹر نرسمہن نے بھی خطاب کیا اور مرحوم نواب شاہ عالم خاں کو ایک انتہائی وضعدار اور مثالی شخصیت قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ۔

TOPPOPULARRECENT