Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / تیرا بھگوان گلیوں میں رہتا ہے، ہمارے بھگوان سورگ میں رہتے ہیں‘‘

تیرا بھگوان گلیوں میں رہتا ہے، ہمارے بھگوان سورگ میں رہتے ہیں‘‘

محکمہ موسمیات کی سینئر سائنسداں کا گھریلو ملازمہ سے جھگڑا، برہمن کے بجائے مراٹھا ہونے پر برہمی
پونے 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں حالیہ چند برسوں کے دوران فرقہ پرستی، مذہبی تعصب، عدم رواداری اور ذات پات پر مبنی نفرت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان پونے میں ذات پات پر مبنی نفرت کا تازہ ترین واقعہ پیش آیا جس میں انڈین میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) (ہندوستانی محکمہ موسمیات) سے وابستہ ایک سینئر سائنسداں نے مہاراشٹرا کے شہر پونے میں اپنی گھریلو ملازمہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے اس پر خود کو برہمن ظاہر کرتے ہوئے تلبیس شخصی و دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ جس کے نتیجہ میں یہ سینئر سائنسداں ایک نئے تنازعہ کا شکار ہوگئی ہیں اور اُنھیں اپنی اِس حرکت پر انسانی حقوق اور سماجی تنظیموں کی سخت تنقیدوں کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ڈی کی ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر نرملا ونائک کھولے نے اپنے گھر پکوان کرنے والی ملازمہ نرملا یادو کے خلاف جمعرات کی شام سنہہ گڈھ پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی جس میں اُنھوں نے کہاکہ نرملا یادو ذات کے اعتبار سے برہمن نہیں بلکہ مرہٹی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ ڈاکٹر کھولے نے کہاکہ اُنھوں نے اپنے گھر پکوان کے لئے شادی شدہ برہمن خاتون کو ملازمت کی شرط رکھی تھی لیکن نرملا نے حقیقت چھپاتے ہوئے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ تاہم نرملا یادو نے پولیس کو بتایا کہ اُنھوں (کھولے) نے گزشتہ سال ملازمت دیتے ہوئے صرف میرا نام پوچھا تھا اور کوئی شرط نہیں رکھی تھی لیکن صرف دو روز قبل گاؤری گنپتی پوجا کے موقع پر اُنھیں پتہ چلا کہ میں برہمن نہیں بلکہ مرہٹی ہوں۔ جس کے ساتھ ہی وہ میرے گھر میں گھس آئیں اور مار پیٹ کرتے ہوئے بدکلامی کی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ ہمارا بھگوان ’گلیوں‘ میں رہتا ہے اور ان (کھولے) کے بھگوان ’سورگ‘ میں رہتے ہیں‘‘۔ کئی مراٹھا تنظیموں نے ڈاکٹر ونائک کھولے کے خلاف جمعہ کی دوپہر احتجاجی جلوس نکالا۔

TOPPOPULARRECENT