Tuesday , January 16 2018
Home / مذہبی صفحہ / تیرہ تیزی کا تصور، اسلامی عقائد کے مغائر

تیرہ تیزی کا تصور، اسلامی عقائد کے مغائر

مولانا غوثوی شاہ

مولانا غوثوی شاہ

صدقہ دینے کے تعلق سے حکم شرعی موجود ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور ان کے صدقات کو لے لیتا ہے اور بے شک اللہ ہی اپنی رحمت سے توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘۔ بہت سے امور کا شمار صدقات میں ہوتا ہے، جیسے نیکی اور خیر کی کوئی بات کسی کو بتادینا، راستے سے کسی تکلیف دہ شے کو ہٹا دینا، کسی ضرورت مند کو فائدہ پہنچانا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب چیزیں صدقہ ہی کی تعریف میں آتی ہیں۔ صدقہ کے معنی اس نیکی کے ہیں، جو دوسروں کے ساتھ اللہ واسے کی جائے۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں کہیں صدقہ کا معنی زکوۃ اور کہیں خیرات بھی لیا گیا ہے اور جا بہ جا صدقہ و خیرات کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’کیا آپ نے اسے نہیں دیکھا، جس نے اپنی خواہشات کو معبود بنا لیا ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ انسان خود اپنے ہی وہم و خیال میں مبتلا اور اسی میں گرفتار ہے۔ ایام جاہلیت میں عربوں کا یہ اعتقاد تھا کہ جب کوئی شخص مارا جاتا (یعنی قتل ہوتا) ہے تو اس کے سر سے ایک پرندہ باہر نکلتا ہے، جو اپنی آواز میں فریاد کرتا ہے کہ ’’قاتل سے جلد بدلہ لیا جائے اور جب تک قاتل انتقاماً یا قصاص کے طورپر مارا نہیں جاتا، یہ پرندہ یونہی چیختا پھرتا ہے‘‘۔ مذہبی طورپر اسلام میں شگونِ بد لینا قطعاً ممنوع ہے، البتہ کسی چیز میں اچھا شگون ضرور لیا جاسکتا ہے۔ فال اور شگون کے سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنی ہی بات ثابت ہے کہ آپﷺ اچھا نام اور نیک فال پسند فرماتے تھے‘‘۔ یہ انسان کی فطرت اور سرشت میں داخل ہے کہ وہ اچھے یا بُرے کسی ایک عقیدہ کا، جسے وہ خود اچھا سمجھتا ہے، حامل ضرور ہوتا ہے اور بسا اوقات اس اعتقاد کا اسے فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے۔ شاید ایسے ہی موقعوں کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم میں کوئی شخص کسی پتھر کے بارے میں بھی اپنا گمان رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے نفع پہنچا دیتا ہے‘‘۔
یہ بات تو مسلم ہے کہ صدقہ بہت سی بلیات کو رد اور دفع کرتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’صدقہ بہترین اعمال سے ہے‘‘۔ عقیدۂ توحید و رسالت کے ساتھ ساتھ اگر صدقہ و خیرات دینے والی عادت انسان میں پیدا ہو جائے تو یہ بہت سی نفل عبادتوں سے افضل اور موجب درجات ہے۔ صدقہ کی ایک اصطلاح اُتارا دینا یا کسی چیز کو ہاتھ لگاکر کسی محتاج کو دینا ہے۔ ایسے امور شرعاً ممنوع نہیں ہیں، البتہ کسی چیز کو بطور رسم جزو دین سمجھ کر بہ تعیین تاریخ کسی پابندی کا لزوم اور یہ سمجھ لینا کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نقصان ہو جائے گا، قطعاً ناجائز بلکہ سببِ معصیت ہے۔ اسی طرح کسی خاص مہینہ، دن یا تاریخ کو منحوس قرار دینا بھی ناجائز ہے، جیسا کہ اسلامی ہلالی مہینوں میں صفر کی تیرہ تاریخ کو منحوس قرار دے کر اسے ’’تیرہ تیزی‘‘ سے موسوم کردیا گیا۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت و تشریف آوری کے بعد جاہلیت کی ساری رسمیں پامال کردی گئیں اور نحوست کے سارے خیالات مسمار کردیئے گئے۔ اب حقیقت میں نحوست صرف اس کے لئے رہ گئی ہے،

جو عقیدۂ توحید و رسالت سے محروم رہ گیا۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ایسے ہی نافرمانوں پر نازل کردہ عذاب کی ساعتوں کو منحوس کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں، جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لئے رہ گئی‘‘۔
صفر کے مہینہ کو نامبارک خیال کیا جاتا ہے، جب کہ صفر کے معنی ’’خالی‘‘ کے ہیں۔ اکثر بڑی عورتیں اس کو ’’خالی کا مہینہ‘‘ کہتی ہیں۔ اہل عرب اس مہینہ کو ’’صفر‘‘ اس لئے کہتے تھے کہ ماہ محرم میں قتل و غارت اور لوٹ مار حرام تھی اور اس کے بعد کے مہینہ میں یہ تمام حرکتیں پھر شروع ہو جاتی تھیں اور عرب اپنے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے تھے، اس طرح مکہ کے اکثر و بیشتر گھر اپنے مکینوں سے خالی پڑے رہتے تھے، اسی مناسبت سے اس مہینہ کا نام ’’صفر‘‘ رکھا گیا۔ علاوہ ازیں جس وقت مہینوں کے نام تجویز کئے جا رہے تھے، موسم خزاں کے سبب پتے جھڑ رہے تھے۔ موسم خزاں میں جھڑنے والے پتوں کا رنگ چوں کہ پیلا ہوتا ہے، اس لئے موسم کی مناسبت سے اس مہینہ کا نام ’’صفر‘‘ رکھ دیا گیا، جس کا معنی عربی میں ’’زرد‘‘ (پیلا) ہوتا ہے۔

برصغیر بالخصوص ہندوستان میں آج بھی ماہِ صفر میں شادی یا کوئی خوشی کا کام مناسب نہیں سمجھا جاتا، یہاں تک کہ نئے دولھا دُلہن بھی تیرہ دِنوں تک کے لئے ایک دوسرے سے دُور کردیئے جاتے ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے بالکل مغائر ہے۔ لفظ ’’تیرہ تیزی‘‘ ایک منحوس اصطلاح یا ایک خاص تلمیحی اشارہ ہے، جس کا اصل تعلق توہمات و رسومات سے ہے۔
تیرہ تیزی کی ایک توجیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ۱۳؍ صفر المظفر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا آغاز ہوا، لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ۲۹؍ صفر بروز چہار شنبہ بستر علالت پر فریش ہوئے۔ یہ عالم اسلام اور ساری کائنات کے لئے یقیناً ایک بہت بڑا سانحہ ضرور تھا، لیکن اسے تیرہ تیزی کا اثر نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اور بات ہے کہ اکثر عاملین و منجمین کے نزدیک صفر کا مہینہ بالعموم اور اس کی تیرہ تاریخ کو بالخصوص بلاؤں کے نزول کا موقع سمجھا گیا ہے، لیکن ایسا سمجھنا اسلامی عقائد کے منافی ہے۔

TOPPOPULARRECENT