Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / تیستا سیتلواد کو تحفظ کی فراہمی سپریم کورٹ کی غلطی کا نتیجہ

تیستا سیتلواد کو تحفظ کی فراہمی سپریم کورٹ کی غلطی کا نتیجہ

کپل سبل کی بحث کے جواب میں تین رکنی بنچ کا ریمارک
نئی دہلی ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں انسانی حقوق سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کی جہدکار تیستاسیتلواد اور ان کے شوہر کو گرفتاری سے بچنے کیلئے قبل ازیں دی گئی عبوری راحت کے احکام کو سپریم کورٹ نے اپنی غلطی قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ راحت تین رکنی بنچ کے بجائے دو ججوں کی طرف سے منظور کی گئی تھی۔ تیستاسیتلواد کے وکیل صفائی کپل سبل کی بحث کے جواب میں جسٹس اے آر داوے اور آدرش کمار گوئل پر مشتمل ایک بنچ نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ’’قبل ازیں یہ غلطی سرزد ہوئی تھی‘‘۔ کپل سبل نے کہا تھا کہ تیستا اور ان کے شوہر کی گرفتاری سے بچنے کیلئے دی گئی راحت 15 اکٹوبر کو ختم ہورہی ہے۔ اس سے قبل بھی دو رکنی بنچ نے ہی اس راحت میں توسیع کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ’’اب یہ تین رکنی بنچ کا معاملہ ہے اور اس کو مناسب بنچ سے رجوع کیجئے‘‘۔ عدالت نے کپل سبل سے کہا کہ راحت میں توسیع کیلئے اس مسئلہ کو چیف جسٹس سے رجوع کریں۔ کپل سبل نے کہا کہ ’’میں اس تحفظ سے محروم ہونا نہیں چاہتا‘‘۔ 2002ء کے فسادات میں تباہ شدہ احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی کے میوزیم کے فنڈس میں مبینہ تغلب اور ہیرپھیر کے ضمن میں اس جہت کار جوڑے کو گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالتی راحت دی گئی تھی۔ تیستا سیتلواد کے خلاف مودی دوراقتدار میں مسلم دشمنی پالیسی کے خلاف صف آراء تھیں جس کے نتیجہ میں انہیں حکومت کے عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT