Sunday , September 23 2018
Home / مضامین / تیسرے قومی محاذ کی ایک اور کوشش

تیسرے قومی محاذ کی ایک اور کوشش

غضنفر علی خان
ہماری ریاست کے چیف منسٹر کے سی آرنے گزشتہ ہفتہ حیدرآباد کے پرگتی بھون میں اعلان کیاکہ وہ بی جے پی اور کانگریس کے مقابل دیگر ہم خیال پارٹیوں پر مشتمل ایک قومی محاذ تشکیل دیں گے۔ ان کے اعلان کے ساتھ ہی گھنٹوں منٹوں میں ملک بھر سے سیاسی لیڈروں نے ان کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ ان کی تجویز کی تائید کرنے والوں میں ابھی تک جو بھاری بھر کم نام ہے وہ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کا ہے۔ وہ بڑی تنک مزاج خاتون لیڈر ہیں۔ لیکن اپنی ریاست کی بااثر اور بی جے پی کو شکست دینے کی طاقت ان میں موجود ہے۔ نہ صرف بی جے پی کو بلکہ کانگریس کو بھی ہرانے کے فن سے واقف ہیں۔ ان کے علاوہ اجیت جوگی سابق چیف منسٹر چھتیس گڑھ، جنتادل یو کے سینئر لیڈر شرد یادو، جھارکھنڈ کے سورین اور کئی ایک نے کے سی آر کی بات پر دھیان دیا اور ان سے بھرپور تعاون کرنے کا یقین دلایا۔ ظاہر ہے کہ چیف منسٹر کا حوصلہ بلند ہوا ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت بی جے پی کے مقابل ایک طاقتور سیکولر محاذ قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ایسی سخت ضرورت کہ اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ ایک ایسے زمانہ میں جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے قدم بڑھتے ہی جارہے ہیں تین چوتھائی ملک پر وہ برسر اقتدار ہے۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں خاص طور پر کرناٹک میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے آزمارہی ہے۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں تریپورہ، میگھالیہ اور ناگالینڈ میں بی جے پی نے شاندار کامیابی حاصل کی جو کسی نے بلکہ خود بی جے پی نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا۔ یہ تینوں ریاستیں ان معنوں میں عجب ہیں کہ یہاں ملک کی اکثریت یعنی ہندو اقلیت میں ہے وہ بھی اتنی کم تعداد میں ہے کہ یہاں ہندوؤں کو خاص تحفظات دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو شاید بی جے پی کے رہتے قبول بھی کرلیا جائے گا۔ شمال مشرق کی ان ریاستوں میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی تو اس بڑے خطرہ کی گھنٹی ہے کہ ملک کی اکثریت کے علاوہ ان ریاستوں میں بھی بی جے پی کا اثر بڑھ رہا ہے۔ جہاں ہندو آبادی بہت کم ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں کرسچن زیادہ آباد ہیں اور کرسچن فرقہ کو بھی بی جے پی ناپسند ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ کرسچن برادری نے بھی ان ریاستوں میں فرقہ پرست بی جے پی کو ہی ووٹ دیا۔ اگر اس بات پر ہی اپوزیشن پارٹیاں غور کریں تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ اپوزیشن کے اتحاد کی کتنی سخت ضرورت ہے۔

2019 ء کے انتخابات تو صاف ظاہر ہے کہ فرقہ پرستوں اور سیکولر طاقتوں کے درمیان ہوں گے اور یہ بھی درست ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں سیکولر نظریات رکھتی ہیں۔ سوائے اُن چند پارٹیوں کے جو سنگھ پریوار کا حصہ ہیں۔ مابقی پارٹیاں سیکولر ہیں یا کم از کم کٹر فرقہ پرستی کی مخالف ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کن بنیادوں پر اپوزیشن پارٹیاں قومی اتحاد بنائیں گی اور کیا ایسا کوئی محاذ بغیر کانگریس کے بن سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق کی بات ہے کہ ابھی کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جو سارے ہندوستان کے لئے قابل قبول ہو یا اس کی ساخت پرداخت ایسی ہو کہ وہ پورے ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہو۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ صرف کانگریس ہی ملک گیر سطح پر موجود ہے۔ اس کی اپنی ایک تنظیم ہے۔ اس کا اپنا ایک کیڈر ہے اس کی اپنی ایک فکر ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ بات بھی سچ ہے کہ کانگریس کو ملک کے عوام نے ایک سے زیادہ مرتبہ ناکام بنادیا ہے۔ سارے ملک میں پارلیمان کے لئے اس کے صرف 42 ارکان پارلیمنٹ ہی منتخب ہوئے لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا درجہ کانگریس ہی کو حاصل ہے۔ کے سی آر بغیر بی جے پی اگر محاذ بناتے ہیں تو پھر ان کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے لیکن وہ اگر اپنے مجوزہ محاذ میں کانگریس کو بھی شجر ممنوعہ سمجھ کر اس سے بھی مساوی دوری رکھنا چاہتے ہیں تو پھر یہ سمجھ لیجئے کہ بی جے پی کے مقابلہ میں بننے والا کے سی آر کا محاذ ایک تیسرا دشمن یا حریف کا بھی سامنا کرتا رہے گا اور وہ تیسری طاقت کانگریس کی ہوسکتی ہے ۔کے سی آر ایک تجربہ کار سیاست داں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ علحدہ تلنگانہ کی تحریک انھوں نے اپنے زور بازو سے جیتی۔ وہ ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں۔ ان کا سیاسی تجربہ بھی وسیع ہے۔ کئی عہدوں بشمول مرکزی وزیر کی حیثیت سے بھی انھوں نے خدمات انجام دی ہیں۔ مسلم اقلیت میں بھی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کی کوششوں کی وجہ ان کا امیج فی الحال اچھا ہے۔ دوسری پارٹیوں کے لئے بھی وہ مجوزہ محاذ کے لیڈر بننے کے لائق ہیں۔ لیکن صرف اتنی کسر اُنھوں نے باقی رکھی ہے کہ وہ ایسے کسی محاذ میں کانگریس پارٹی کو شامل نہیں رکھنا چاہتے۔ کیوں کہ ان کی اپنی تلنگانہ ریاست میں کانگریس ہی سے ٹی آر ایس کا مقابلہ ہے۔ کانگریس اور کے سی آر کی ٹی آر ایس (تلنگانہ راشٹرا سمیتی) میں اقتدار کے حصول کی جنگ ہوتی ہے۔ اس میں بھی ٹی آر ایس کے چندرشیکھر راؤ کا پلڑا بھاری ہے۔ ابھی تو محاذ کے قیام کا اعلان ہوا ہے ابھی کئی مرحلے باقی ہیں۔ رفتہ رفتہ باتیں صاف ہوتی رہیں گی اور چیف منسٹر تلنگانہ کا یہ خواب بھی پورا ہوگا اور ایک محاذ بی جے پی کے سامنے کھڑا ہوگا۔ فرقہ پرست طاقتوں کو جنوبی ہند سے اُبھرنے والی یہ قیادت کے سی آر یہ بتادیں گے کہ ہندوستان جیسے ملک میں کبھی بھی فرقہ پرست حکومت نہیں چل سکتی۔ اس خواب کی تعبیر ابھی تو بہت اچھی اور حوصلہ افزاء لگتی ہے لیکن تمام باتوں کا انحصار کے سی آر کی دانشمندی تدبر ، فراست اور معاملہ فہمی پر ہے۔ وہ محاذ کی تشکیل کے لئے جو بھی کوشش کریں گے ان میں ان ہی تین باتوں تدبر، فراست اور معاملہ فہمی کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ پارٹیوں کے اتحاد ان کی محاذ بنانے کی کوشش ضد یا ہٹ دھرمی سے کامیاب نہیں ہوگی جتنی لچک پذیری ممکن ہو کرنی پڑتی ہے۔ اصل مقصد اگر بی جے پی کو شکست دینا ہے تو کئی طاقتیں سینہ تان کر سامنے آجائیں گی۔ حال ہی میں شمال مشرق کی ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی سیکولرازم کے لئے چیلنج ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملک کی سیاسی جماعتیں بی جے پی کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ سیاسی پارٹیوں کو سارے ملک میں ایسی ہی فکر اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔ جیسی کے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سارے ہندوستان کو دکھائی ہے۔ ان کی آواز پر سیاسی قیادت کو لبیک کہنا چاہئے اور ان کی یہ کوشش میں ان کے ساتھ رہنا چاہئے کیوں کہ ملک کی عصری تاریخ میں اتنا بُرا وقت کبھی نہیں آیا تھا جیسا کہ آج ہے۔ اپوزیشن کا اتحاد، جمہوری، سیکولر اور دستوری و قانونی ہندوستان کی بقاء کے لئے ضروری ہے سوال صرف توفیق کا ہے۔

TOPPOPULARRECENT