Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / تیسرے محاذ کا شوشہ ‘ مسلمانوں کو پھر دھوکہ دینے کی کوشش

تیسرے محاذ کا شوشہ ‘ مسلمانوں کو پھر دھوکہ دینے کی کوشش

ناکامیوں کو چھپانے ‘عوامی غضب سے بچنے کے سی آر کے مختلف حربے ‘ اتم کمارریڈی کا انٹرویو

٭ عنقریب کانگریس کا اقلیتی ڈیکلریشن ۔ گلابی پرچم پر زعفرانی رنگ حاوی
٭ اس بار پرانے شہر میں مجلس کو جتانے نہیں کانگریس کی کامیابی کیلئے مقابلہ ہوگا

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 4 ؍ مارچ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے کہاکہ بی جے پی سے مایوس ہونے اور تمام دروازے بند ہوجانے کے بعد مسلمانوں کے بشمول ریاست کے عوام کو پھر ایک بار دھوکہ دینے کے لئے چیف منسٹر کے سی آر پر تیسرا محاذ کے اشارے دیتے ہوئے اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کا الزام عائد کیا ۔ بہت جلد ’’ میناریٹی ڈیکلریشن‘‘ کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ابھی تک کانگریس پرانے شہر میں مجلس کو جتانے مقابلہ کرتی تھی 2019 میں خود کامیاب ہونے کے لئے مقابلہ کرے گی ۔ روزنامہ سیاست کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والے کے سی آر نے 4ماہ کا وعدہ کرتے ہوئے 4 سال میں بھی مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے ۔ قبائیلی طبقہ کو 10 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے ۔ ایس سی طبقہ کی زمرہ بندی کیلئے کل جماعتی وفد کو دہلی لیجانے میں ناکام ہوگئے ۔ بی سی طبقہ سے انصاف نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سماج کے تمام طبقات ٹی آر ایس حکومت سے ناراض ہیں ۔ نوٹ بندی ‘ جی ایس ٹی ‘ صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ٹی آر ایس نے بی جے پی کی غیر مشروط تائید کی اس کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر کو نظرانداز کر دیا۔ مرکزی عام بجٹ ریلوے بجٹ میں تلنگانہ سے کوئی انصاف نہیں کیا اور نا ہی تقسیم ریاست آندھراپردیش کے بل میں تلنگانہ سے جو وعدے اور تیقنات کئے گئے تھے اس پر عمل آوری نہ ہوئی ۔ تلنگانہ عوام کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے کے سی آر تیسرے محاذ کا شوشہ چھوڑتے ہوئے سیاسی تماشہ کر رہے ہیں جو ان کے لئے مہنگا ثابت ہوگا ۔ کے سی آر کی تمام تدابیر الٹی ہوگئی ۔ عوام کو ایک بار دھوکہ دیا جاسکتا ہے ۔ باربار دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ اُتم کماری ریڈی نے کہاکہ گذشتہ 4 سال میں تلنگانہ اور قومی سطح پر بہت تبدیلیاں آگئی ہیں ۔ چار سال قبل ہندو ۔ مسلم فرقہ پرس تنظیموں نے سیاسی فائدے کے لئے نفرت کا زہر گھولتے ہوئے عوام کو ٹکڑوںمیں بانٹنے میں کامیاب ہوئے تھے جس سے ملک کاشیراز بکھر چکا ہے ۔ ملک اور ریاست میں کانگریس کے کئی قائدین بی جے پی ۔ ٹی آر ایس و دیگر جماعتوں میں شامل ہوگئے ۔ سب سمجھ رہے تھے کہ کانگریس ختم ہوگئی ہے ۔ مرکز میں مودی اور ریاست میں کے سی آر ہی برقرار رہیں گے ۔ لیکن انہوں نے بحیثیت کپتان ریاست میں کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے انتھک کوشش کی اور اس جدوجہد میں کانگریس پارٹی کے تمام سینئر قائدین نے انکا بھرپور تعاون کیا ۔

پہلی مرتبہ دیہی سطح سے ریاستی سطح تک کانگریس کو تنظیمی سطح پر مستحکم بنایاگیا ۔ مختلف پروگراموں کے ذریعہ ٹی آر ایس اور این ڈی اے حکومتوں کی ناکامیوں کا پردہ فاش کیا گیا۔ عوامی مسائل کو لے کر سڑکوں پر احتجاج کیا گیا اور ایوانوں میں حکمرانوں کو جھنجوڑا گیا جس کے بعد ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی طبقات میں کانگریس کا اعتماد بحال ہوگیا ۔ جو لوگ کانگریس سے دوسری جماعتوں میں شامل ہوگئے تھے وہ لوگ دوبارہ کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ بی جے پی اور ٹی آر ایس نے اچھے دن کے عوام کو جو خواب دکھائے تھے وہ 4 سال میں پورے نہیں ہوئے ۔ اچھے دن صرف کے سی آر فیملی کیلئے آئے ہیں ۔ کانگریس دور میں عوام کے جو بھی اچھے دن تھے وہ بھی بدترین دن میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ ریاستی اور قومی سطح پر عوام ٹی آر ایس اور بی جے پی سے مایوس ہوچکے ہیںاور دوبارہ امید بھری نظروں سے کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ کانگریس کی بس یاترا سے ماحول بدل گیا ہے ۔ عوامی رجحان میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے ۔ عوام میں تبدیلی کی لہر دیکھی جا رہی ہے اور کانگریس کیڈر میں جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے ۔ جب بس یاترا کا آغاز کیا گیا وہ سونچتے تھے کہ ’ پرجا چیتینہ یاترا‘ جلوس میں 5 تا 6 ہزار عوام شرکت کریں گے ۔ لیکن 10 تا 12 لوگوں نے جلوس میں شرکت کرلے کانگریس میں امید کی نئی کرنیں جگا دی ہیں ‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف کتنی ناراضگی پائی جاتی ہے ۔

کانگریس کے اس موقف کیلئے ان کے رول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جنگی جہاز چلانے والے پائیلٹ جس طرح اپنے ملک کو کامیاب بنانے کام کرتے ہیں وہ بھی انتخابی میدان میں مخالفین کو شکست دینے کام کر رہے ہیں ۔ صدر تلنگانہ کانگریس نے کہا کہ وہ 15 سال کی عمرسے نیشنل ڈیفنس اکیڈیمی(این ڈی اے) میں شامل ہوچکے تھے اس کے بعد فوج اور انڈین ایر فورس کے تحت پاکستان اور چین کی سرحدوں میں کام کیا ۔ ملک کی سیکوریٹی کیلئے کام کرنے پر انہیں فخر ہے ۔ بعدازاں صدر جمہوریہ کے پاس اہم رول ادا کرنے کے بعد عوامی خدمات انجام دینے رضاکارانہ طور پر ملک کے باوقار عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں ۔ کانگریس قائدین کی گروپ بندیوں کے متعلق سوال پر کہا کہ اس کو گروپ بندیاں قرار دینا غلط ہے ۔ کانگریس میں کئی قائدین برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے بھی خواب ہیں ‘ عزائم ہیں وہ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں ۔ کانگریس کے تمام قائدین متحد ہیں اور سب کی یہی ذمہ داری ہے کہ پہلے کانگریس کو کامیاب بنائیں ‘ رہی بات عہدوں کی صدر کانگریس راہول گاندھی جو بھی فیصلہ کریں گے پارٹی کے تمام قائدین اس کو قبول کریں گے ۔ خواتین کیلئے ونپرتی اور کسانوں کیلئے آمور ڈیکلریشن کے بعد دوسرے طبقات کیلئے کوئی پالیسی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت جلد میناریٹی ڈیکلریشن کا اعلان کیا جائیگا ۔ کانگریس مسلم قائدین کے علاوہ دانشوروں سے بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔

اتم کمار ریڈی نے روزنامہ سیاست کی صحافتی ‘ سماجی اور ملی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ادارہ سیاست نے ہمیشہ عوامی مسائل پیش کرنے اور قوم میں شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری نبھائی ہے ۔ پرانے شہر میں کانگریس کے مقابلے کی حکمت عملی کے بارے میں اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ ابھی تک کانگریس پرانے شہر میں مجلس کو جتانے مقابلہ کیا کرتی تھی اب خود کانگریس اپنی کامیابی کیلئے مقابلہ کریگی مجلس کے قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہیں کانگریس اس مرتبہ گیریٹر حیدرآباد میں انتخابی مقابلے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کے تحت کام کرہی ہے ۔ انہوں نے ریاست کے مسلمانوںسے اپیل کی کہ وہ گذشتہ چار سال کا محاسبہ کریں جب سے مرکز میں مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پائی ہے سارے ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوںکے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ گاؤکشی کے نام پر مسلمانوں کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ لو جہاد کے نام پر حملے کئے جا رہے ہیں ۔ طلاق ثلاثہ کے نام پر شریعت میں مداخلت کی جا رہی ہے ۔ کھانے پینے اور شادیوں کے مسئلہ کو بھی تنازعہ بناکر مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے ۔ذرا غور کریں بی جے پی کے ناپاک عزائم کو کون روک سکتے ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ۔ صدر مجلس اسدالدین اویسی یا صدر کانگریس راہول گاندھی ‘ یہ کام صرف قومی اور سیکولر جماعت کانگریس کرسکتی ہیں ۔ کے سی آر مفاد پرست ہیں وہ کبھی بھی بی جے پی سے اتحاد کرسکتے ہیں ۔ مجلس پر سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے بالواسطہ فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچانے کے الزامات عائد ہیں ۔ بہار ‘ یو پی اور مہاراشٹرا میں جہاں مجلس نے مقابلہ کیا ان حلقوں سے کانگریس معمولی ووٹوں سے ہاری ہے ۔ لہذا وہ مسلمانوں کے بشمول سیکولر رائے دہندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ واپنے ووٹوں کی اہمیت کو سمجھیں ۔ مفاد پرست اور فرقہ پرستوں کو شکست دینے کانگریس کو کامیاب بنائیں ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے گلابی پرچم پر آر ایس ایس کا زعفرانی پرچم حاوی ہوچکا ہے ۔ ٹی آر ایس سروے میں بھی کانگریس کی کامیابی کی پیش قیاس ہو رہی ہے ۔ ہر دن کانگریس کے ووٹرس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری طرف ٹی آر ایس کا ووٹ تیزی سے گھٹ رہا ہے ۔ کانگریس کی بس یاترا میں راہول گاندھی کی شرکت کے متعلق سوال پر کہاکہ راہول گاندھی نے بس یاترا میں شرکت کیلئے دلچسپی دکھائی ہے ۔ ریاست میں دوسری جماعتوں سے سیاسی اتحاد سے متعلق انہوں نے کہاکہ ہم ٹی آر ایس اور بی جے پی کے خلاف ہیں کئی جماعتیں کانگریس سے اتحاد کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ مگر اس کا قطعی فیصلہ پارٹی ہائی کمان اور راہول گاندھی کریں گے ۔

 

 

TOPPOPULARRECENT