Saturday , November 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تیسرے محاذ کا شوشہ ‘ مسلمانوں کو پھر دھوکہ دینے چیف منسٹر کا تماشہ

تیسرے محاذ کا شوشہ ‘ مسلمانوں کو پھر دھوکہ دینے چیف منسٹر کا تماشہ

ناکامیوں کو چھپانے اور عوامی غیض و غضب سے بچنے کے سی آر کے مختلف حربے ( بسلسلہ صفحہ آخر )

بچوں کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ انہیں کوئی بچے نہیں ہیں ۔ ان کی شریک پدماوتی ریڈی کانگریس رکن اسمبلی ہے ۔ دونوں نے اپنی زندگی تلنگانہ عوام کیلئے وقف کر دی ہے ۔ کانگریس قائدین کی گروپ بندیوں کے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ اس کو گروپ بندیوں قرار غلط ہے ۔ کانگریس میں کئی قائدین برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے بھی خواب ہیں ‘ عزائم ہیں وہ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں ۔ کانگریس کے تمام قائدین متحد ہیں اور سب کی یہی ذمہ داری ہے کہ پہلے کانگریس کو کامیاب بنائیں ‘ رہی بات عہدوں کی صدر کانگریس راہول گاندھی جو بھی فیصلہ کریں گے پارٹی کے تمام قائدین اس کو قبول کریں گے ۔ خواتین کیلئے ونپرتی اور کسانوں کیلئے آمور ڈیکلریشن کے بعد دوسرے طبقات کیلئے کوئی پالیسی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہت جلد میناریٹی ڈیکلریشن اقلیتی ڈیکلریشن کا اعلان کیا جائیگا ۔ کانگریس مسلم قائدین کے علاوہ دانشوروں سے بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔اتم کمار ریڈی نے روزنامہ سیاست کی صحافتی ‘ سماجی اور ملی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور ادارہ سیاست نے ہمیشہ عوامی مسائل پیش کرنے اور قوم میں شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری نبھائی ہے ۔ پرانے شہر میں کانگریس کے مقابلے کی حکمت عملی کے بارے میں اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ ابھی تک کانگریس پرانے شہر میں مجلس کو جتانے مقابلہ کیا کرتی تھی اب خود کانگریس اپنی کامیابی کیلئے مقابلہ کریگی اور طاقتور امیداوروں کو انتخابی میں اتاریگی ۔ مجلس کے قائدین کانگریس سے رابطہ میں ہیں کانگریس اس مرتبہ گیریٹر حیدرآباد میں انتخابی مقابلے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کے تحت کام کرہی ہے ۔ انہوں نے ریاست کے مسلمانوںسے اپیل کی کہ وہ گذشتہ چار سال کا محاسبہ کریں جب سے مرکز میں مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پائی ہے سارے ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوںکے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ گاؤکشی کے نام پر مسلمانوں کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ لو جہاں کے نام پر مسلمانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں ۔ طلاق ثلاثہ کے نام پر شریعت میں مداخلت کی جا رہی ہے ۔ کھانے پینے اور شادیوں کے مسئلہ کو بھی تنازعہ بناتے ہوئے مسلمانوں پر حملے کرنے کے ساتھ انہیں پریشان کیا جا رہا ہے ۔ کیا اسطرح کا ماحول بھی کانگریس کے دور میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ذرا غور کریں بی جے پی کے ناپاک عزائم کو کون روک سکتے ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ۔ صدر مجلس اسدالدین اویسی یا صدر کانگریس راہول گاندھی ‘ یہ کام صرف قومی اور سیکولر جماعت کانگریس کرسکتی ہیں ۔ کے سی آر مفاد پرست ہیں وہ کبھی بھی بی جے پی سے اتحاد کرسکتے ہیں ۔ مجلس پر سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرتے ہوئے بالواسطہ فرقہ پرست طاقتوں کو تقویت پہنچانے کے الزامات عائد ہیں ۔ بہار ‘ یو پی اور مہاراشٹرا میں جہاں مجلس نے مقابلہ کیا ان حلقوں سے کانگریس معمولی ووٹوں سے ہاری ہے ۔ اب مجلس نے کرناٹک میں بھی مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ لہذا وہ مسلمانوں کے بشمول سیکولر رائے دہندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ واپنے ووٹوں کی اہمیت کو سمجھیں ۔ مفاد پرست اور فرقہ پرستوں کو شکست دینے کانگریس کو کامیاب بنائیں ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے گلابی پرچم پر آر ایس ایس کا زعفرانی پرچم حاوی ہوچکا ہے ۔ ٹی آر ایس سروے میں بھی کانگریس کی کامیابی کی پیش قیاس ہو رہی ہے ۔ ہر دن کانگریس کے ووٹرس میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے ۔ دوسری طرف ٹی آر ایس کا ووٹ تیزی سے گھٹ رہا ہے ۔ کانگریس کی بس یاترا میں راہول گاندھی کی شرکت کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ راہول گاندھی نے بس یاترا میں شرکت کیلئے دلچسپی دکھائی ہے ۔ ریاست میں دوسری جماعتوں سے سیاسی اتحاد سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہاکہ ہم ٹی آر ایس اور بی جے پی کے خلاف ہیں کئی جماعتیں کانگریس سے اتحاد کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ مگر اس کا قطعی فیصلہ پارٹی ہائی کمان اور راہول گاندھی کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT