Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / تیسرے محاذ کیلئے ممتابنرجی دہلی میں اور چندرا بابو وجئے واڑہ میں مصروف

تیسرے محاذ کیلئے ممتابنرجی دہلی میں اور چندرا بابو وجئے واڑہ میں مصروف

نائیڈو نے 35 جماعتوں کے قائدین کا اجلاس طلب کیا، قومی دارالحکومت میں ممتا کی متعدد قائدین سے ملاقات
نئی دہلی ؍ وجئے واڑہ ۔ 27 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے دو طاقتور علاقائی قائدین ممتابنرجی اور چندرا بابو نائیڈو آئندہ عام انتخابات میں دو بڑی جماعتوں کے خلاف طاقتور محاذ بنانے کی کوششوں میں شدت پیدا کرچکے ہیں۔ مغربی بنگال کی خاتون آہنی ممتابنرجی چار روزہ مصروف ترین دورہ پر گذشتہ روز قومی دارالحکومت پہنچیں جہاں پہلے ہی دن انہوں نے این سی پی سربراہ شردپوار اور ان کی دختر و جانشین سوپریہ سولے سے ملاقات کی۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال، جے ڈی (ایس) کے سربراہ دیوے گوڑا کے بشمول وہ 18 علاقائی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقاتیں کریں گی لیکن کانگریس کے قائدین سے ملاقات ان کے پروگرام میں شامل نہیں ہے۔ یہ بات کانگریس کیلئے ایک بدشگون سمجھی جارہی ہیکہ ممتابنرجی نے اس دورہ کے موقع پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی سے ملاقات سے انکار کرچکی ہیں کیونکہ ان (ممتا) کا دعویٰ ہیکہ کانگریس کے صدر کا بائیں بازو کی طرف جھکاؤ ہے۔ چنانچہ وہ سی پی آئی (ایم) کے سیتارام یچوری کے مکتب فکر سے بہت زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ نئی دہلی کے بانگو بھون میں ترنمول کانگریس کے تمام 35 ارکان پارلیمنٹ بھی ممتابنرجی کے ساتھ ہیں۔ اروند کجریوال بھی کمل ہاسن کی مکل ندھی مائیم کو راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس طرح یہ تیسرا محاذ اپنے مخالف کانگریس اور مخالف بی جے پی کردار سے پہچانا جارہا ہے۔ دوسری طرف تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر چندرا بابو نائیڈو نے اپریل کے تیسرے ہفتہ کے دوران وجئے واڑہ میں 35 جماعتوں کے قائدین کا اجلاس طلب کیا ہے۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کے مسئلہ پر اختلافات کے سبب نائیڈو بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے سے علحدہ ہوچکے ہیں جس کے بعد وہ ڈی ایم کے، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، بی ایس پی، ایس پی، عاپ، جے ڈی (ایس)، ایم ڈی ایم کے، ڈی ایم ڈی کے اور پی ایم کے قائدین سے بات چیت کرچکے ہیں۔ نائیڈو نے حال ہی میں اپنے آنجہانی خسر اور سابق چیف منسٹر این ٹی راما راؤ کی طرف سے علاقائی جماعتوں کو متحد کئے جانے کی یاد دلاتے ہوئے اے پی اسمبلی سے کہا تھا کہ علاقائی جماعتوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑتا ہے۔ این ٹی آر نے بھی مرکز میں قیام حکومت کیلئے علاقائی جماعتوں کو متحد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT