Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تیسرے محاذ کی تشکیل کے اعلان کا خیر مقدم ، ملک کی سیاسی صورتحال میں انقلابی تبدیلی

تیسرے محاذ کی تشکیل کے اعلان کا خیر مقدم ، ملک کی سیاسی صورتحال میں انقلابی تبدیلی

ہندوستان کے ہر شہری کے چہرہ پر خوشحالی کے سی آر کا مقصد ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا ادعا
حیدرآباد 5 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے قومی سیاست میں حصہ لینے اور تیسرے محاذ کے قیام سے متعلق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور اسے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انقلابی تبدیلی قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی نے کہاکہ چیف منسٹر نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں تلنگانہ کو ترقی اور فلاحی اقدامات میں ملک میں سرفہرست بنادیا اور سنہرے تلنگانہ کا خواب جلد پورا ہوجائے گا۔ ٹھیک اسی طرح چیف منسٹر اپنے تجربہ اور عوامی خدمات کی روشنی میں ملک کو سنہرے ہندوستان میں تبدیل کردیں گے۔ ہندوستان کے ہر شہری کے چہرے پر خوشی اور ہر خاندان میں خوشحالی کے سی آر کا مقصد ہے۔ آزادی کے 70 برس کے بعد بھی آج تک ہر گھر کو صاف پینے کا پانی سربراہ نہیں کیا گیا۔ سیاسی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کے ذریعہ ہی عوام کی بہتر طور پر خدمت کی جاسکتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ ملک کے حالات سے مایوس اور عوامی مسائل کی بہتات کی فکر کرتے ہوئے کے سی آر کو آخرکار قومی سیاست میں حصہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے تین برسوں میں کے سی آر نے نہ صرف اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی بلکہ کئی ایسی اسکیمات کا آغاز کیا جن کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات میں ملک کے لئے تلنگانہ مثالی ریاست بن چکی ہے اور کئی ریاستوں نے تلنگانہ کی اسکیمات کو اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محمود علی نے کہاکہ کانگریس اور بی جے پی قومی سطح پر عوام کے حق میں کام کرنے اور ملک کی ترقی میں بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ وقت آچکا ہے کہ اِن دونوں جماعتوں کا مؤثر متبادل تیار کیا جائے۔ اگرچہ مختلف علاقائی جماعتوں نے تیسرے محاذ کے قیام کی کوشش کی تھی لیکن طاقتور اور تجربہ کار قیادت کی کمی سے یہ تجربات ناکام ہوگئے۔ کے سی آر نے جیسے ہی تیسرے محاذ کے قیام کا اعلان کیا ملک بھر سے علاقائی جماعتیں محاذ میں شمولیت کا اعلان کررہی ہیں۔ ممتا بنرجی اور کئی دیگر قائدین نے کے سی آر سے ربط کرتے ہوئے محاذ میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا۔ محمود علی نے کہاکہ تیسرے محاذ کی قیادت کے لئے کے سی آر سے بہتر اور کوئی شخصیت نہیں ہوسکتی کیوں کہ اُنھوں نے 14 برسوں کی طویل جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ ریاست کو حاصل کیا جوکہ ناممکن سمجھا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر اپنی عوامی زندگی کے طویل تجربہ کو قومی سیاست میں صرف کرنا چاہتے ہیں۔ محمود علی نے چیف منسٹر کے اِس استدلال کی بھرپور تائید کی کہ مرکزی حکومت کو زائد اختیارات ریاستوں کو سونپ دینا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کمزور طبقات کو تحفظات کی فراہمی اور زرعی شعبہ کے مسائل ریاستوں کو سونپ دیئے جائیں اور وہ اپنی ضرورت کے اعتبار سے پسماندہ طبقات اور کسانوں کی مدد کرسکیں۔ اُنھوں نے کہاکہ دستور میں درج فہرست اقوام و قبائیل کی آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے 50 فیصد کی حد مقرر کردی جسے بنیاد بناکر مرکز کسی بھی ریاست میں اضافی تحفظات کی منظوری سے انکار کررہا ہے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ 1994 ء سے ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات کس طرح سے جاری ہیں۔ اسی طرح مہاراشٹرا میں تحفظات 50 فیصد سے زائد ہیں۔ محمود علی نے کہاکہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو تحفظات میں اضافہ سے متعلق تلنگانہ کا بِل مرکز کے پاس زیرالتواء ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ٹی آر ایس ارکان نے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیاکہ تحفظات کے اختیارات ریاستوں کو منتقل کئے جائیں۔ محمود علی نے بتایا کہ دیگر جماعتوں نے بھی ٹی آر ایس کے اِس مطالبہ کی تائید کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے یقین ظاہر کیاکہ قومی سیاست میں حصہ لینے کا کے سی آر کا اعلان ملک میں ایک نئے انقلاب کا نقیب ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT