Tuesday , December 11 2018

تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ،مرکزی حکومت سے اچانک برآمدات ٹیکس میں اضافہ سے صورتحال نازک

حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( ایجنسیز ) : ماہ ربیع الاول اور شادیوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں ۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کے استعمال سے باہر ہوتی جارہی ہیں ۔ بالخصوص پیاز ، سبزی ، انڈے اور خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے خوردنی اشیاء کی برآمدات پر محاصل میں اچانک اضافہ کے باعث اس طرح کا رجحان پیدا ہوا ہے ۔ جس کے باعث عوام اپنے جیب پر بوجھ محسوس کرنے لگے ہیں اور مجبوراً اضافی قیمت ادا کر کے غذائی اشیاء کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستان میں تلنگانہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں سن فلاور تیل کا استعمال کافی زیادہ ہے ۔ جب کہ حکومت کے زیر انتظام چلائے جانے والا ادارہ تلنگانہ اسٹیٹ کوآپریٹیو آئیل سیڈس گروورس فیڈریشن نے بھی خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ پر مجبور ہوگئی ہے ۔ اس کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے برآمدات پر اچانک ٹیکس میں اضافہ سے اس پر بوجھ بڑھ گیا تھا ۔ تلنگانہ میں ایشیاء ، انڈونیشیاء اور یوکرین ، ملیشیاء سے سن فلاور آئیل کو برآمد کیا جاتا ہے جب کہ سویا بین کی خاصی مقدار بھی امریکہ سے برآمد کیا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تین یوم قبل نے مرکزی حکومت نے اچانک برآمدات پر ٹیکسیس میں اضافہ کیا ہے جس سے منفی اثرات مرتب ہونے گئے ہیں ۔ پام آئیل پر 15 سے 30 فیصد محاصل بڑھایا گیا ہے جب کہ سن فلاور آئیل پر 12.5 سے 25 فیصد اور ریفائنڈ آئیل پر 20 سے 35 فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت تیل کی برآمدات میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں جب کہ خانگی مینو فیکچرنگ کمپنیاں بھی عوامی طلب پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر ہی منحصر ہیں ۔ اس طرح کی صورتحال کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے جب کہ مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع نہیں ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT