Sunday , November 19 2017
Home / مذہبی صفحہ /        تیمم کے مسائل         تیمم کے مسائل  

       تیمم کے مسائل         تیمم کے مسائل  

مرسل : ابوزہیر نظامی

تیمم جائز ہونے کی صورتیں : (توضیح شرط ششم ) : پانی پر قدرت نہ ہونے یا تیمم کے جائز ہونے کی صورتیں حسب ذیل ہیں : ۔ (۱) پانی موجود نہ ہو اور ایک میل تک نہ ملے (اس قدر جو وضو یا غسل کے لئے کافی ہو ) ۔ (۲)  پانی موجود ہو مگر اس کے استعمال سے بیماری بڑھ جانے یا صحت میں دیر ہونے کا خوف ہو ۔ اسی طرح جبکہ سردی کی اس قدر شدت ہو کہ جنبی کو غسل کرنے میں کسی عضو کے ضائع ہوجانے یا کسی مرض کے پیدا ہونے کاخوف ہو اور گرم پانی نہ مل سکتا ہو ۔ (۳) پانی تک جانے میں کسی دشمن یا درندہ وغیرہ کا خوف ہو ۔ (۴) پانی ہو لیکن پینے کے لئے ہو اور خوف ہو کہ اگر اس سے وضو یا غسل کیاجائے تو آپ یا ہمراہی یا سواری کا جانور پیاسا رہ جائے (۵) کنواں ہو مگر ڈول رسی ( یا اور کوئی چیز پانی نکالنے کے قابل) موجود نہ ہو (۶) پانی قیمت پر ملتا ہو اور قیمت گراں یعنی دو چند ہو یا موجود نہ ہو ۔ (۷) وضو یا غسل کرنے میں کسی ایسی نماز کے فوت ہوجانے کا خوف ہو جس کی قضا یا بدل نہیں جیسے عیدین کی نماز ( یا جنازہ کی نماز بشرطیکہ مصلی میت کا ولی نہ ہو ) (تنیبہ) (۱) اگر پانی قریب ملنے کا گمان ہو توتلاش کرنا ‘ یا کسی کے پاس موجود ہو اور ملنے کی توقع ہو ‘ تو طلب کرنا فرض ہے ۔ بغیر تلاش یا طلب کئے تیمم جائز نہیں ۔ (۲) اگر کسی کے چیچک نکلی ہو یا بے وضو کے اکثر اعضاء وضو میں یا جنب کے اکثر حصہ جسم میں زخم ہوں تو تیمم جائز ہے ۔ (۳) اگر پانی وضو کے موافق ہو لیکن کپڑے یا جسم پر نجاست حقیقی (بقدر مانع نماز ) لگی ہو تو اس پانی سے پہلے نجاست دور کرے پھر وضو کے بجائے تیمم کرلے۔ (۴) اگر پانی مشکوک ہو ( جیسے گدھے کا جھوٹا) تو پہلے اس سے وضو یا غسل کرلے ‘ پھر تیمم کرے ۔ (۵) اگر مسافر کے اسباب و سامان میں پانی ہو اور وہ بھول جائے اور تیمم کر کے نماز پڑھ لے تو درست ہے (یعنی نماز پڑھ لینے کے بعد یاد آئے تو اعادہ کی ضرورت نہیں) ۔ (۶) جس نماز کی قضاء یابدل موجود ہو جیسے پنجوقتہ یا جمعہ ان کے فوت ہونے کے خوف سے تیمم جائز نہیں ۔ تیمم کے ارکان : تیمم کے دو ارکان ہیں ۔ (۱) دو ضرب (یعنی پہلی دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر منہ پر مسح کرنا پھر دوسری دفعہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت مسح کرنا) ۔ (۲) استیعاب (یعنی پورے منہ اور دونوں  ہاتھوں پر اس طرح مسح کرنا کہ کوئی جگہ بال برابر بھی مسح سے باقی نہ رہے )۔ (تنبیہ) انگلیوں کے خلال کے لئے  پھر مٹی پر ہاتھ مارنے کی ضرورت نہیں ۔ تیمم کی سنتیں : تیمم میں آٹھ سنتیں ہیں : (۱) بسم اللہ کہنا ۔ (۲) دونوں ہتھیلیوں کو اندر کی طرف سے مٹی پر مارنا (۳) ہتھیلیوں کو مٹی پر رکھ کر آگے کھینچنا(۴) ہتھیلیوں کا پیچھے ہٹانا (۵)ہاتھوں سے مٹی کا جھاڑ ڈالنا (۶) مٹی پر ہاتھ رکھنے کے وقت انگلیوں کا کشادہ رکھنا (۷) ترتیب (یعنی اول منہ کا مسح کرنا پھر داہنے ہاتھ کا پھر بائیں ہاتھ کا )۔(۸) پئے درپئے بلا توقف مسح کرنا۔(نصاب اہلِ خدمات شرعیہ، حصہ سوم)[email protected]

TOPPOPULARRECENT