Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / تیمم کے مسائل

تیمم کے مسائل

مرسل : ابوزہیر نظامی

 

مسح کے احکام : ( توضیح شرط دوم و سوم ) (۱) تیمم میں مسح کرنا شرط ہے ۔ (۲) مسح پورے منہ اور دونوں ہاتھوں کا (کہنیوں سمیت ) کرنا چاہئے ۔ اس طرح کہ کوئی مقام مسح سے باقی نہ رہے ۔ ( یہاں تک کہ آنکھ اور بھوؤں کے نیز دونوں نتھنوں کے درمیانی حصوں پر اور اگر مونچھ کے بال بڑھ جانے سے ہونٹ چھپ گیا ہو تو بالوں کو اٹھاکر ہونٹ پر ‘ اسی طرح ہاتھوں میں کنگن یا چوڑیاں ہوں تو ان کو ہٹا کر نیچے کے حصہ پر ‘ غرض منہ اور دونوں ہاتھوں کی پوری سطح پر ہاتھ پھر جائیں ) ورنہ تیمم نہ ہوگا ۔ (۳) اگر اعضائے تیمم پر کوئی مانع مسح چیز ہو مثلاً چربی موم ‘ یا انگلی میں تنگ انگوٹھی تو اس کا دور کرنا اور انگلیوں کے درمیان غبار نہ پہنچا ہو تو انگلیوں میں خلال کرنا فرض ہے (۴) مسح تین یا زیادہ انگلیوں سے کرنا چاہئے ۔ تین سے کم انگلیوں سے جائز نہیں ۔
جن چیزوں سے تیمم جائز ہے : (توضیح شرط چہارم و پنجم ): (۱) مٹی یا جو چیزیں مٹی کی جنس سے ہو ںان سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو (اور جو چیزیں مٹی یا جنس مٹی سے نہ ہوں ان سے جائز نہیں ) ۔ (تنبیہ) مٹی کی جنس میں وہ چیزیں ہیں جو آگ میں جلانے سے نرم نہ ہوں اور نہ جل کر راکھ ہوجائیں جیسے ریگ اور پتھر کے اقسام عقیق ‘ فیروز ‘ مرمر ‘ ہڑتال ‘ گندھک ‘ سرمہ ‘ گیرو ’ سیندھا نمک وغیرہ اور جو چیزیں جلانے سے نرم ہوں یا جل کر راکھ ہو جائیں جیسے سونا ‘ چاندی ‘ تانبا ’ پیتل ‘ لوہا ‘ لکڑی ‘ کپڑا ‘ غلہ وغیرہ وہ مٹی کی جنس سے نہیں ۔(۲) جو چیزیں مٹی کی جنس سے نہیں اگر ان پر غبار ہو تو پھر تیمم جائز ہے ۔(۳) گچ ‘ پختہ اینٹ ‘ چونہ ‘ گیلی مٹی اور مٹی کے برتن ان سب پر تیمم جائز ہے بشرطیکہ برتن پر کسی ایسی چیز کا رنگ یا روغن نہ ہو جو جنس زمین سے نہیں (۴) اگر مٹی میں کوئی ایسی چیز مل جائے جو مٹی کی جنس سے نہیں تو غالب کا اعتبار ہوگا ۔ (۵) محض غبار سے تیمم جائز ہے ۔ (۶) ایک جگہ یا ایک مٹی سے کئی آدمی یا ایک ہی آدمی کئی مرتبہ تیمم کرسکتا ہے۔(۷) مٹی یا جنس مٹی کا پاک اور پاک کرنے والی ہونا ضروری ہے ۔ (پس زمین اگر نجس ہو کر خشک ہوجائے اور نجاست کا اثر بھی جاتا رہے تو اس پر نماز درست ہے مگر تیمم جائز نہیں ) ۔
(نصاب اہلِ خدمات شرعیہ، حصہ سوم)
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT