Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / تین خواتین کے ہاتھوں اہانت مذہب کا مجرم ہلاک

تین خواتین کے ہاتھوں اہانت مذہب کا مجرم ہلاک

لاہور ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) تین برقعہ پوش بہنوں افشاں، انما اور رضیہ نے 13 سال قبل مذہب کی توہین کرنے والے ایک ملزم کو پاکستانی صوبہ پنجاب کی تحصیل پسرور کے دیہات ننگل مرزا میں ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ یہ خواتین ایک عامل مظہر حسین سید سے ان کی دعائیں لینے کے بہانے ملزم کے گھر پہنچی تھیں تاکہ ان کے گھریلو مسائل حل ہوسکیں۔ دعائیں لینے کے بعد ان خواتین نے عامل سے خواہش کی کہ اپنے فرزند فضل عباس کو طلب کریں کیونکہ ان میں سے ایک اس کی شاگرد رہ چکی تھی اور اسے دیکھنا چاہتی تھی۔ جب فضل عباس آیا تو تینوں نے اس پر اندھادھند فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا۔ پولیس نے تینوں خواتین کو گرفتار کرلیا ہے ۔ تاہم انہوں نے اپنی حرکت پر کوئی پچھتاوا ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ اس شخص نے 13 سال قبل مذہب کی توہین کی تھی اور انہوں نے اس سے بدلہ لے لیا ہے۔ ان تینوں خواتین نے عباس کو قتل کرنے کے بعد خوشی کے نعرے بلند کئے تھے اور کہا تھا کہ ہم نے آج توہین مذہب کا بدلہ لے لیا۔ پولیس کے ایس ایچ او کو بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 13 سال قبل فضل عباس کو اس لئے قتل نہیں کرسکی تھیں کیونکہ اس وقت وہ کمسن تھیں۔ 2004ء میں فضل عباس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295C (اہانت مذہب) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT