تین سابق چیف جسٹس نے نامناسب سمجھوتے کئے

سیاسی دباؤ میں مدراس ہائیکورٹ کے سابق جج کو توسیع : کاٹجو

سیاسی دباؤ میں مدراس ہائیکورٹ کے سابق جج کو توسیع : کاٹجو
نئی دہلی 21 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) آج اس وقت ایک تنازعہ پیدا ہوگیا جب سپریم کورٹ کے سابق جج اور موجودہ صدر نشین پریس کونسل آف انڈیا مارکنڈے کاٹجو نے الزام عائد کیا کہ یو پی اے دور حکومت میں تین سابق چیف جسٹس آف آنلایا نے ٹاملناڈو میں ایک جج کو کرپشن کے الزامات کے باوجود برقرار رہنے کا موقع دینے میں نامناسب سمجھوتے کئے ہیں۔ الزام میں واضح کیا کہ گیا ہے کہ ایک نامعلوم اڈیشنل جج مدراس ہائیکورٹ کو یو پی اے حکومت کی پہلی معیاد میں ایک حلیف جماعت کے دباؤ میں توسیع دی گئی تھی ۔ اس کے بعد انہیں مستقل جج بھی بنادیا گیا ۔ کانگریس نے تاہم اس انکشاف کے وقت پر سوال کیا ہے ۔ جسٹس کاٹجو نے الزام عائد کیا کہ تین سابق ججس آر ایس لاہوٹی ‘ وائی کے سبھروال اور کے جی بالا کرشنن نے نامناسب سمجھوتے کئے اور اس جج کو برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے سیاسی دباؤ کو قبول کیا تھا ۔ حالانکہ کرپشن کے الزامات میں انٹلی جنس بیورو سے ان کے خلاف رپورٹ منفی تھی ۔ کاٹجو نے ٹی وی چینلس سے یہ بات کہی ۔ سابق چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے ان الزامات کو بالکلیہ بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ حقیقت نہیں ہے ۔جسٹس کاٹجو نے کہا کہ یہ حقیقت ہیکہ تینوں سابق چیف جسٹس نے سیاسی دباؤ قبول کرکے سمجھوتہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT