Friday , January 19 2018
Home / جرائم و حادثات / تین شادیوں کے باوجود چوتھی کی کوشش مہنگی پڑی

تین شادیوں کے باوجود چوتھی کی کوشش مہنگی پڑی

حیدرآباد /7 نومبر ( سیاست نیوز ) ان دو خاندانوں میں دوستانہ تعلقات تھے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہر چھوٹی تقریب میں ایک دوسرے کو مدعو کرنا ہر خوشی و غم میں شامل ہونا ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا ۔ لیکن اچانک ایک خاندان کے فرد نے دوسرے خاندا کے فرد کا قتل کردیا ۔ وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ایک خاندان کی لڑکی اور دوسرے خاندان کا لڑکا مبینہ طور پر

حیدرآباد /7 نومبر ( سیاست نیوز ) ان دو خاندانوں میں دوستانہ تعلقات تھے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہر چھوٹی تقریب میں ایک دوسرے کو مدعو کرنا ہر خوشی و غم میں شامل ہونا ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا ۔ لیکن اچانک ایک خاندان کے فرد نے دوسرے خاندا کے فرد کا قتل کردیا ۔ وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ایک خاندان کی لڑکی اور دوسرے خاندان کا لڑکا مبینہ طور پر فون پر بات کرتے تھے ۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب پولیس نے پہاڑی شریف کے سنسنی خیز قتل معمہ کو حل کرتے ہوئے 35 سالہ عبدالرفیع کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا ۔ یاد رہے کہ عبدالرفیع کا قتل 29 اکٹوبر کو جل پلی کے علاقہ میں ہوا تھا ۔ جب وہ اپنی کمپنی میں موجود تھا ۔ تاہم اس کو کمپنی کے باہر انجان مقام پر طلب کرتے ہوئے اس کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا اور نعش کو پھینک کر قاتل فرار ہوگئے تھے ۔ آج پولیس نے 5 قاتلوں بشمول لڑکی کے بھائی جو اصل ملزم بتایا گیا ہے کو گرفتار کرلیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس شمس آباد مسٹر سدرشن نے قاتلوں کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور باتیا کہ عبدالرفیع اور قاتل نمبر ایک عبدالماجد جس کی عمر 30 سال بتائی تئی ہے دونوں کے خاندانوں میں بہترین تعلقات تھے اور دونوں کے خاندانوں کا ایک دوسرے کے گھر آناجانا تھا ۔ عبدالماجد کی بہن بھی عبدالرفیع کے مکان اپنے افراد خاندان کے ساتھ گئی تھی اور اس دوران عبدالماجد کی بہن اور عبدالرفیع کے درمیان دوستی ہوگئی اور دونوں فون پر بات چیت کرنے لگے ۔ عبدالرفیع چونکہ پہلے ہی سے تین شادیاں کرچکا تھا اور اس طرح سے لڑکی فون پر بات کرنا والدین کو ناگوار گذرا اور انہوں نے لڑکی کو تاکید کی اور باور کیا کہ وہ بات نہ کرے ۔ جس سے ذہنی تناؤ کا شکار لڑکی نے نامعلوم زہریلی دوا کا استعمال کرتے ہوئے خودکشی کی کوشش کی جس کو فوری ہاسپٹل منتقل کرتے ہوئے ناکام بنادیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد عبدالماجد کافی برہم تھا اور اس نے منصوبہ تیار کرتے ہوئے قتل کی سازش رچی اور اپنے ساتھیوں کو لیکر 29 اکٹوبر کے دن عبدالرفیع کی کمپنی پہونچا اور اسے جل پلی کے علاقہ میں طلب کیا گیا جہاںان افراد نے ملکر عبدالرفیع کا قتل کردیا ۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر حراست میں لیکر تفتیش کی اور ان کے افراد خاندان نے اپنے جرم کو قبول کرلیا کہ انہوں ہی نے عبدالرفیع کا قتل کیا ہے ۔ اے سی پی نے بتایا کہ سال 2011 میں سلیم اور امتیاز نارائن گورہ حدود میں ایک قتل معاملہ میں ملوث تھے جبکہ محمد علی کے خلاف راجندر نگر پولیس نے ایکٹ کے تحت کارروائی کی تھی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT