Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / تین طلاق بل کے خلاف خواتین کا احتجاج

تین طلاق بل کے خلاف خواتین کا احتجاج

آل انڈیا مجلس تحفظ خواتین کے زیر ہتمام پریس کانفرنس سے صبا حسیب نے کہاکہ ملک کی تمام مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہیں
دیو بند۔ مرکزی حکومت تین طلاق بل لوک سبھا میں پاس کرانے کے بعد اب راجیہ سبھاپاس کرانے کی تیاری میں ہے ‘ حکومت کے اس بل سے مسلم تنظیموں اور علماء میں زبردست بے چینی اور ناراضگی ہے۔ اس سلسلے میں دیو بند میں خواتین کی مذہبی وسماجی تنظیمیں بل کی مخالفت میں میدان میںآگئی ہیں۔ ال انڈیا مجلس تحفظ خواتین کی جانب سے پبلک گرلز انٹر کالج کے احاطہ میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔

پریس کانفرنس سے آل انڈیا مجلس تحفظ حواتین کی صدر صبا حسیب صدیقی نے کہاکہ مسلمانوں خاص طور پر خواتین نے شریعت کے خلاف نافذ ہونے والے قانون کو نہ تو پہلے مانا ہے اور نہ ہی اب مانا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ علما ء اوردوسری مسلم مذہبی تنظیمیں شروع سے یہ مطالبہ کرتی آرہی تھیں کہ طلاق بدعت کو ختم کرنے والے بل کے مسودہ کو علماء ودانشواران کو دکھائے بغیرحتمی شکل نہ دی جائے لیکن مرکزی حکومت نے خامیوں سے بھرا ہوا بل لوک سبھا میں پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین پر اپنا فیصلہ زبردستی تھوپنا چاہتی ہے جبکہ شریعت میں طلاق کے جو قوانین ہیں وہ مکمل ومدلل ہیں۔

صبا حسیب نے کہاکہ ملک کی تمام مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہیں کیونکہ پرسنل لاء کے تمام قوانین وہی ہیں جو قرآن وحدیث سے واضح ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو دین وشریعت میں کھلی مداخلت قراردیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے ساتھ یہ سراسر ظلم ہے۔ صبا حسیب نے راجیہ سبھا ممبران سے مطالبہ کیا کہ درست ترمیمات کے بغیر اس بل کو ہرگز پاس نہ کرے اور مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 2019میں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے ۔

مذہبی امور اورشریعت سے مکمل واقفیت رکھنے والے معلمات روبینہ شہزاد اور صائمہ محفوظ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاکہ راشٹریہ مسلم منچ نے طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے والے بل کی حمایت میں جن برقعہ پوش خواتین کے ہاتھوں میں تختیاں دے کر کمیروں کے سامنے کھڑا کیا ان کے مذہب کی تصدیق نہیں ہے کہ وقعتا وہ خواتین مسلم تھیں یا ان کا تعلق کسی دوسرے مذہب سے تھا۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے تمام مسلم نمائندہ تنظیموں نے حکومت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور مسلم پرسنل لاء کی حمایت کا اعلان کیاہے۔ اس موقع پر صبا حسیب ‘ بازیلہ‘ روبینہ شہزاد اور صائمہ محفوظ کے علاوہ شبانہ ‘ شاکرہ‘ ساجدہ پروین‘ نصرت جہاں‘ رفعت عثمانی ‘ شائستہ پروین‘ سعدیہ عثمانی‘ مریم ‘ شمع پروین‘ لائبہ نور‘ اقر اانصاری‘رابعہ‘ رخسانہ‘ اسماء ‘ روحین اور زیبا ناز وغیرہ موجو د رہیں۔

TOPPOPULARRECENT