Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / تین طلاق غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود حاملہ کو طلاق

تین طلاق غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود حاملہ کو طلاق

بارہ بنکی، 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کی طرف سے روک لگائے جانے کے باوجود تین طلاق کا ایک تازہ معاملہ سامنے آنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عدالت سے اس کی سزا مقرر کرنے کی گزارش کی ہے ۔بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے آج ‘یو این آئی اردو’ سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی منگل کو تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر روک لگائے جانے کے فورا بعد میرٹھ میں ایک حاملہ عورت کو تین طلاق دیئے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ، جو لوگ ایسا کریں گے انہیں کون سی سزا دی جائے گی! انہوں نے گزارش کی کہ سپریم کورٹ اپنے حکم کی خلاف ورزی کرنے اور تین طلاق دینے والوں کے خلاف سزا بھی مقرر کرے تاکہ اس پر موثر روک لگ سکے اور متاثرین کو انصاف ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ویمن بورڈ اس کے لیے عرضی داخل کرکے عدالت سے اپیل بھی کرے گا۔محترمہ شائستہ نے اس بات پر اظہار تاسف کیا کہ عدالت نے جہاں پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ تین طلاق پر قانون سازی کرے وہیں حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو ہی قانون بتا کر اپنا پلہ جھاڑتي نظر آ رہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تین طلاق کا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بجائے معلق رہ جائے اور مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی جاری رہے ۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ تشویش ہے کہ موجودہ صورتحال میں تین طلاق پر مسلم معاشرہ حکومت اور عدالت کے الجھاوے میں نہ پھنس جائے ۔ حکومت اور سپریم کورٹ کو اس معاملے پر اپنا رخ واضح کرنا چاہئے نہیں تو سڑکوں پر تحریک چلائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT