Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / تین طلاق پر آرڈیننس کی کوشش جمہوری اُصولوں کے مغائر

تین طلاق پر آرڈیننس کی کوشش جمہوری اُصولوں کے مغائر

مسلمانوں کے جذبات کا احترام اور مسلم قائدین سے مشاورت ضروری : مولانا سجاد نعمانی

نئی دہلی ۔ /6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا ہے کہ باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ مودی حکومت تین طلاق بل راجیہ سبھا میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے اب آرڈیننس کے ذریعہ اس قانون کو نافد کرنا چاہتی ہے اور اگر ایسا ہے تو اس سے مودی حکومت کی ڈکٹیٹر شپ ظاہر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل راجیہ سبھا میں زیرالتواء ہے اور راجیہ سبھا میں پاس ہونے کا انتظار کرنا چاہئیے اور اس طرح آر ڈیننس کے ذریعہ اس قانون کو مسلمانوں پر زبردستی تھوپنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے سلسلے میں مسلمانوں میں زبردست اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے اور حکومت کو مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے اور بل پیش کرنے سے پہلے مسلم پرسنل لا بورڈ سے صلاح و مشورہ کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کے عائلی امور کی سب سے بڑی تنظیم ہے ۔ اس کو نظر انداز کرنا نہیں چاہئے تھا ۔ مولانا نعمانی نے ٹیلی فون پر یو این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی حکومت آرڈیننس لاتی ہے تو وہ صدرجمہوریہ سے اپیل کریں گے کہ وہ اس آرڈیننس پر دستخط نہ کریں ۔ کیوں کہ جمہوریت کی روح کے منافی ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے جو موقف اختیار کیا اور جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے وہ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اپوزیشن نے اپنا جمہوری اور اخلاقی کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے اتحاد کا مظاہرہ جاری رکھیں گی اور آئندہ ہونے والے راجیہ سبھا کے اجلاس میں اس بل کو منظور نہیں ہونے دیں گی ۔ انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ بھی صدرجمہوریہ سے اپیل کریں کہ اس طرح کے آرڈیننس پر دستخط نہ کریں ۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ حکومت کوئی بھی قانون عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بناتی ہے نہ کہ ان کو پریشان کرنے کے لئے ، جس طرح تین طلاق بل میں التزام کیا گیا ہے اس سے خواتین سب سے زیادہ پریشان ہوں گی ۔

TOPPOPULARRECENT