Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / تین طلاق کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کالعدم کردیا

تین طلاق کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کالعدم کردیا

بشمول طلاق ثلاثہ قرآنی اُصولوں کے مغائر کوئی بھی عمل ناقابل قبول، حکومت 6 ماہ میں قانون بنائے ،پانچ رکنی دستوری بنچ کا اکثریتی فیصلہ

نئی دہلی 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے اپنے ایک اکثریتی فیصلے کے ذریعہ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کو آج کالعدم کردیا اور کہاکہ یہ عمل فسخ، غیرقانونی اور غیردستوری ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ تین طلاق کا عمل قرآن (مجید) کے بنیادی ضابطوں کے خلاف بھی ہے۔ پانچ ججوں کی دستوری بنچ نے 395 صفحات پر مشتمل اپنے حکم نامہ میں کہا: ’’3:2 کی اکثریتی رائے کے ریکارڈ کردہ مختلف نظریات کے پیش نظر ’طلاق بدعت‘ یا ’طلاق ثلاثہ‘ کے عمل کو مسترد اور کالعدم کیا جاتا ہے‘‘۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ایس عبدالنذیر تین طلاق کے عمل پر چھ ماہ کے لئے پابندی لگانے کی تائید کرتے ہوئے حکومت کو اس ضمن میں ایک قانون وضع کرنے کی ہدایت دینے کے حق میں ہیں، لیکن جسٹس کورین جوزف، جسٹس آر فالی نریمن اور جسٹس یو یو للت نے طلاق ثلاثہ کو دستوری خلاف ورزی قرار دیا۔ ان تینوں ججوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے ذریعہ طلاق دینے کا طریقہ اعلانیہ طور پر ظالمانہ اور دستور کی خلاف ورزی ہے چنانچہ اس کو منسوخ و مسترد کیا جانا چاہئے۔ اکثریتی فیصلہ میں ان ججوں نے کہاکہ بشمول طلاق ثلاثہ مسلم برادری میں ایسا کوئی بھی عمل ناقابل قبول ہوگا جو قرآنی احکام و اُصولوں کے مغائر ہوتا ہے۔ تینوں ججس جسٹس جوزف ، جسٹس نریمن اورجسٹس للت نے سی جے آئی اور جسٹس نذیر کے ساتھ اس کلیدی مسئلہ پر واضح عدم اتفاق کیا کہ آیا تین طلاق اسلام کا بنیادی حصہ ہے؟ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس کھیہر اور جسٹس عبدالنذیر کے اقلیتی فیصلہ میں تین طلاق کے طریقہ کار پر چھ ماہ کے لئے روک لگانے کی تائید کرتے ہوئے یہ تجویز رکھی گئی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ضمن میں قانون سازی کے لئے مرکز کی مدد کرنے کی خواہش کی جائے۔ اقلیتی فیصلے میں ان ججوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے چھ ماہ میں قانون سازی نہ کئے جانے کی صورت میں طلاق ثلاثہ پر پابندی کو جاری رکھا جائے۔

چیف جسٹس کھیہر اور جسٹس عبدالنذیر نے اپنے اقلیتی فیصلہ میں اُمید ظاہر کی کہ مرکز کی قانون سازی میں مسلم تنظیموں اور اداروں کی تشویش اور شرعی قانون کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ اس دستوری بنچ میں سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو اور مسلم جیسے پانچ مذاہب سے وابستہ ججس شامل ہیں۔ اس بنچ نے سات درخواستوں کی سماعت کی جن میں مسلم برادری میں طلاق ثلاثہ کے عمل کو چیلنج کرتے ہوئے مسلم خواتین کی طرف سے دائر کردہ پانچ علیحدہ درخواستیں بھی شامل تھیں۔ ان درخواست گذاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ بہ یک وقت تین طلاق کا عمل غیردستوری ہے۔ انھوں نے طلاق ثلاثہ کے عمل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طریقہ کار کے تحت شوہر اپنی بیویوں کو بہ یک وقت تین طلاق دیتے ہیں اور بعض اوقات فون پر ایک ٹیکسٹ میسیج (ایس ایم ایس) کے ذریعہ بھی طلاق دیا کرتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ ’طلاق ثلاثہ‘ کا عمل بدترین ہے اور مسلمانوں میں شادی اور رشتہ ازدواج کی تنسیخ کے لئے کوئی پسندیدہ طریقہ کار نہیں ہے جس کے باوجود مسلمانوں میں بعض ایسے بھی مکاتب فکر ہیں جو اس (طلاق ثلاثہ) کو قانونی قرار دیتے ہیں۔ قبل ازیں مرکز نے اس بنچ سے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ طلاق ثلاثہ کو اگر غیردستوری قرار دیتی ہے تو وہ مسلمانوں میں شادی اور طلاق کو باضابطہ و باقاعدہ بنانے کے لئے قانون وضع کرے گی۔

حکومت نے کہا کہ مسلم برادری میں طلاق کے تینوں اقسام ’’طلاق بدعت‘‘ ، ’’طلاق حسن‘‘ اور ’’طلاق احسن‘‘ یکطرفہ اور ماؤرائے دستور ہیں۔ مرکز نے عدالت عظمیٰ سے کہا تھا کہ تمام پرسنل لا (عائیلی قوانین) کو وراثت، جائیداد، طلاق اور شادی کے حقوق اور دستور سے ہم آہنگ ہونا چاہئے اور اُنھیں ایک ہی زمرہ میں مساویانہ تصور کیا جانا چاہئے۔ نیز یہ دستور کے مطابق ہونا چاہئے۔ مرکز نے یہ بھی کہا تھا کہ تین طلاق نہ تو اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے اور نہ ہی اکثریت اور اقلیت کے درمیان کا کوئی مسئلہ ہے بلکہ یہ مسلم مردوں اور محروم عورتوں کے درمیان بین طبقاتی رسہ کشی ہے۔ اس مقدمہ میں مسلمانوں میں کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ جیسے دیگر طریقوں کے دستوری جواز کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ تاہم دستوری بنچ نے ’’مسلم خواتین میں مساوات کی طلب‘‘ کے زیرعنوان اصل مقدمہ کی سماعت ازخود شروع کی تھی۔ مسلم خواتین کو ان کے شوہروں کی دوسری شادیوں کے سبب یا طلاق کی صورت میں صنفی تعصب اور امتیازی سلوک کے سوال پر عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹ لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر مختلف قائدین ، سماجی جہد کاروں اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے فوری خیرمقدم کیااور اسے صنفی مساوات کی کامیابی اور خواتین کیلئے بڑی پیشرفت قرار دیا۔ سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی جنہوں نے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے طلاق ثلاثہ کیخلاف مرکز کے موقف کو پیش کیا تھا ، آج کے فیصلہ کو یکساں سیول کوڈ کے قطعی مقصد کی سمت قدم قرار دیا۔

تاریخی فیصلہ:مسلم خواتین کو مساوات : مودی
وزیراعظم نریندر مودی نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے اس کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور کہاکہ اس سے مسلم خواتین کو مساوات حاصل ہوئے ہیں۔ مودی نے کہاکہ یہ فیصلہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے طاقتور اقدام ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’طلاق ثلاثہ پر معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ اس نے مسلم خواتین کو مساوات دیا ہے اور یہ خواتین کو بااختیار بنانے کا طاقتور اقدام ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT