Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / تین طلاق کے خاتمہ کیلئے قانون سازی زیرغور

تین طلاق کے خاتمہ کیلئے قانون سازی زیرغور

وزارتی کمیٹی تشکیل ، پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں منظوری متوقع، شیعہ بورڈ نے خیرمقدم کیا
نئی دہلی۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے تین طلاق کے طریقہ کار کو ختم کرنے کیلئے قانون سازی پر غور کے مقصد سے ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تین طلاق جو مسلمانوں میں بیویوں کو طلاق دینے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے ’’کالعدم‘‘ قرار دیئے جانے کے باوجود ہنوز رائج ہے۔ سرکاری اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ مرکز اس ضمن میں ایک موزوں و مناسب قانون سازی یا اس کی موجودہ دفعات میں ترمیم پر غور کررہی ہے جس کے ذریعہ تین طلاق کو مستوجب سزا جرم قرار دیا جاسکے۔ اس ضمن میں موجودہ قانون کے تحت ’’طلاقِ بدعت‘‘ سے متاثرہ کسی مسلم بیوی کے پاس اپنی شکایت کے ازالہ کے لئے پولیس سے رجوع ہونے کے سواء کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے، کیونکہ کوئی مسلم عالم اس متاثرہ بیوی کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس اہلکار نے بیان کیا کہ حتی کہ پولیس میں اس ضمن میں بے بس ہے کیونکہ قانون میں مناسب سزا کے نہ ہونے کے سبب تین طلاق دینے والے شوہر کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ سرکاری اہلکاروں نے مزید کہا کہ قانون وضع کرنے کیلئے وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور پارلیمانی سرمائی سیشن میں حکومت قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اگست کے دوران متنازعہ تین طلاق کو ’’غیردستوری اور ظالمانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا تھا۔ تین طلاق طریقہ کار کے تحت مسلم مرد اپنی بیویوں کو فون، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، اسکائپ وغیرہ پر بھی تین مرتبہ ’’طلاق‘‘ کہتے ہوئے آنِ واحد میں زوجیت سے خارج کرسکتے ہیں۔ حکومت طلاق ثلاثہ کے بارے میں نئے قانون کا مسودہ منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ طلاق ثلاثہ کے تنازعہ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ دریں اثناء سماجی کارکنوں میں جو طلاق ثلاثہ تحریک کی قیادت کررہے تھے، کہا ہیکہ وہ مسلم پرسنل لاء پر مبنی نئے قانون سے کم کسی بھی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ صرف قانون تعزیرات ہند میں ترمیمات سے تنازعہ کی یکسوئی نہیں ہوسکتی۔ اگست میں سپریم کورٹ نے فوری طلاق ثلاثہ کو مسترد کردیا تھا کیونکہ یہ غیردستوری اور جانبدارانہ ہے۔ مسلم خواتین سے طلاق ثلاثہ کے بارے میں ایک سروے کیا گیا تھا جن میں سے مبینہ طور پر تقریباً 83 فیصد خواتین نے مسلم قانون ازدواج میں ترمیم میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کرنے سے ہی انہیں انصاف مل سکے گا۔ دریں اثناء شیعہ مسلم پرسنل لاء وقف بورڈ نے حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے تنازعہ کی یکسوئی کیلئے ایک کمیٹی کے قیام کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مرکزی حکومت کے اس اقدام کا استقبال کرتا ہے۔ کئی مسلم ممالک پہلے ہی طلاق ثلاثہ کے عمل کو متروک قرار دے چکے ہیں اور نئے قانون کی منظوری سے طلاق ثلاثہ کے تنازعہ کی مکمل طور پر یکسوئی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت کا تقاضہ بھی ہے کہ ایک سخت قانون طلاق ثلاثہ کے عمل کے خاتمہ کیلئے منظور کیا جائے جیسا کہ انسداد ستی قانون ہے جس سے ہندو معاشرہ میں سدھار پیدا ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT