Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / تین طلاق کے مسئلہ کو یکساں سیول کوڈ سے نہ جوڑا جائے ‘ حکومت

تین طلاق کے مسئلہ کو یکساں سیول کوڈ سے نہ جوڑا جائے ‘ حکومت

کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ اور کانگریس پر تنقید، مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو کا بیان
نئی دہلی 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ یکساں سیول کوڈ پر رائے عامہ حاصل کرنے لا کمیشن کے فیصلے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ کو طلاق ثلاثہ سے مربوط نہیں کیا جانا چاہئے جہاں اصل مسئلہ جنسی انصاف کا ہے اور خواتین کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کا ہے ۔ یکساں سیول کوڈ پر مباحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ملک میں حقیقی خیال یہ ہے کہ تین طلاق کی روایت کو ختم کیا جائے اور کچھ لوگ دونوں مسائل پر الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نائیڈو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو اس مباحث میں شامل ہونا چاہئے ۔ اس پر مباحث ہونے چاہئیں۔ آپ کی رائے کو پیش کیا جائے ۔ اس پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ اس بحث میں کیوں وزیر اعظم کا نام گھسیٹا جا رہا ہے

اور انہیں کیوں ڈکٹیٹر قرار دیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ ایک دن قبل ہی مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم تنظیموں نے اعلان کیا تھا کہ وہ لوگ لا کمیشن کی جانب سے متنازعہ یکساں سیول کوڈ مسئلہ پر رائے عاملہ حاصل کرنے کی کوششوں میں شامل نہیں ہونگے اور بائیکاٹ کرینگے ۔ مسلم تنظیموں کا کہنا تھا کہ لا کمیشن کی جانب سے رائے لینا در اصل مودی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے خلاف جنگ ہے اور یکساں سیول کوڈ سے ہندوستان کی ہمے گیریت ختم ہوجائیگی ۔ نائیڈو نے کہا کہ کچھ لوگ تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ تین طالق کی روایت کو ختم کیا جائے ۔ لوگ نہیں چاہتے کہ کسی بھی مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر خواتین کے خلاف امتیاز برتا جائے ۔ یہ مسئلہ جنسی انصاف اور خواتین کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کا ہے ۔ انہوں نے مسلم پرسنل لا بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بورڈ سیاسی تبصرے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوجانا چاہئے

۔ ایسے ریمارکس کی مسلم پرسنل لا بورڈ یا دوسری مسلم تنظیموں سے امید نہیں رکھی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ تک خود کو محدود رکھے جو لا کمیشن نے مباحث کیلئے پیش کیا ہے ۔ نائیڈو نے کہا کہ لا کمیشن چاہتا ہے کہ یکساں سیول کوڈ مسئلہ پر تفصیلی مباحث ہوں اور اگر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس میں حصہ لینا نہیں چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے ۔ اگر وہ جواب نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں۔ یہ ان کا اپنا اختیار ہے لیکن آپ کو ایسا ظاہر نہیں کرنا چاہئے کہ آپ دوسروں کے خیالات کے بھی چمپئن ہیں۔ اس مسئلہ کو سیاسی بحث میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ تین طلاق کے مسئلہ پر بھی انہوں نے کہا کہ لا کمیشن چاہتا ہے کہ اس پر سبھی گوشوں کی رائے حاصل کی جائے ۔ کچھ لوگ اس پر لوگوں میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کو یکساں سیول کوڈ سے جوڑنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT