Wednesday , August 22 2018
Home / مضامین / تین گجراتی نوجوانوں سے 22 سالہ بی جے پی اقتدار متزلزل

تین گجراتی نوجوانوں سے 22 سالہ بی جے پی اقتدار متزلزل

 

عرفان جابری
گجرات میں بی جے پی 22 سال سے برسراقتدار ہے اور اس مدت میں 2014ء تک زعفرانی پارٹی کی 12 سالہ حکمرانی نریندر مودی کی قیادت میں درج ہوئی۔ عام طور پر سب جانتے ہیں کہ 2002ء کے فسادات نے گجرات میں کس طرح کا ماحول پیدا کیا اور اقتدار پر مودی کی گرفت کس طرح مضبوط ہوتی گئی، یہاں تک کہ آر ایس ایس۔ بی جے پی نے انھیں نئی دہلی میں حکمرانی کیلئے قابل سمجھ کر ریاست سے منتقل کردیا۔ چیف منسٹر مودی نے ہمیشہ یہی باور کرایا کہ گجرات میں ’’ترقی کی سیاست‘‘ چل رہی ہے لیکن جیسے ہی وہ وزیراعظم بن گئے، گجرات کی حقیقت بے نقاب ہونے لگی۔ فوری طور پر آنندی بین پٹیل کو چیف منسٹر گجرات بنا دیا گیا لیکن دیڑھ سال میں انھیں سیاستدانوں کیلئے بی جے پی میں 75 سال عمر کی بالائی حد کی دہائی دیتے ہوئے وزارت ِ اعلیٰ سے علحدہ کرکے وجئے روپانی کو ریاستی اقتدار کی باگ ڈور تھما دی گئی۔ اس درمیان نہ صرف ریاستی نظم و نسق پر بی جے پی حکومت کی گرفت کمزور پڑنے لگی بلکہ نت نئے مسائل اُبھر آنے لگے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ پاٹیدار کمیونٹی کا بی جے پی سے حددرجہ نالاں ہوجانا اور کم عمر ہاردک پٹیل کا بی جے پی حکمرانی کیلئے چیلنج بن کر اُبھرنا ہے۔

بی جے پی نے اپنی عادت کے مطابق ہاردک کو منظر سے غائب کرنے کیلئے اوچھی حرکت کرتے ہوئے اُن کے مبینہ ’سیکس‘ سی ڈیز جاری کئے تاکہ عوام میں نوجوان لیڈر کو بدنام کردیا جائے۔ لیکن یہ چال اُلٹی پڑگئی۔ گزشتہ ماہ کے وسط کی بات ہے کہ پاٹیدار انامت آندولن سمیتی (پی اے اے ایس یا پاس) کے کنوینر ہاردک پٹیل کی شبیہہ والے نوجوان کی تین ’سیکس‘ سی ڈیز جاری کئے گئے اور اُس کے دوسرے ہی روز ضلع بھڑوچ کے ایک موضع میں لگ بھگ 10,000 جمع ہوئے تاکہ ہاردک کی بات سن سکیں۔ لوگ دیکھنا چاہتے تھے کہ 24 سالہ نوجوان سی ڈیز کے بعد اپنے پہلے جلسہ عام میں کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ جیسے ہی ہاردک کی گاڑیوں کا قافلہ جلسہ گاہ پہنچا، پٹیل کمیونٹی کی 10 لڑکیوں نے ہاردک کے ماتھے پر تلک لگاتے ہوئے اُن کا روایتی استقبال کیا، جو اشارہ تھا کہ گندی سی ڈیز کے باوجود ہاردک اور ان کی کمیونٹی میں آپسی رشتہ کتنا مضبوط ہے۔ پھر ہاردک نے اپنی تقریر میں بی جے پی کی دھجیاں اڑائیں۔ انھوں نے شائستہ گجراتی میں للکارتے ہوئے کہا: ’’میں نے اتنے برس کی زندگی دیکھی ہے جتنے سال بی جے پی نے گجرات میں حکمرانی کی ہے … 24 سالہ غیرشادی شدہ لڑکے کی کوئی سیکس سی ڈی بنانے کے بجائے بی جے پی کو سی ڈیز تیار کرتے ہوئے عوام کو دکھانا چاہئے تھا کہ اس نے ان 22 سال میں گجرات کیلئے کیا کام کئے ہیں۔ کیوں ریاست میں کسان مصیبت میں مبتلا ہیں اور کیوں بے روزگاری پھیلی ہوئی ہے حالانکہ گجرات پر اس کی حکمرانی دو دہوں سے جاری ہے۔‘‘ سارا ہجوم اُچھل پڑا۔ اگر سی ڈیز کا مقصد نوجوان پٹیل کو ’جنسی ہوس کا پجاری‘ کے طور پر پیش کرنا تھا تو ہاردک کی ایک ہی تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ یہ چال اُلٹی ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ ہاردک اپنی کمیونٹی اور مقامی لوگوں کا ہیرو ہے۔
ایک اور لب سڑک جلسہ عام میں ہاردک نے اسی انداز کو برقرار رکھا۔ کہیں ایسا نظر نہیں آیا کہ اس اسکینڈل کی وجہ سے اُن کے لہجہ میں فرق آگیا یا وہ پشیمانی محسوس کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’اب بی جے پی کی تاناشاہی کو شکست دینے کا وقت آچکا ہے۔ سیاسی حریفوں کو شکست دینے کیلئے غیراخلاقی طریقوں کا استعمال اور اقتدار کا استحصال اس پارٹی کی انا اور ہٹ دھرمی کا عکاس ہے۔ وہ جس قدر ایسی غیراخلاقی حرکتیں کرتے جائیں گے، عوام اتنا ہی اس کے خلاف ردعمل ظاہر کریں گے۔ چار روز بعد نئی سیاسی شیرازہ بندی میں جو یقینا گجرات اسمبلی چناؤ (9 اور 14 ڈسمبر) کا رُخ موڑ دے گی، ہاردک نے کانگریس کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعلان کردیا۔ ان کو یہ فیصلہ کرنا اس لئے آسان ہوگیا کیونکہ کانگریس نے ان کے کلیدی مطالبات تسلیم کرلئے جیسے پٹیل کمیونٹی کیلئے ریزرویشن، احمدآباد میں 25 اگست 2015 کی ریلی کے بعد سے پٹیل برادری پر مظالم کی تحقیقات کیلئے کمیشن کا قیام۔کس طرح 24 سالہ گجراتی جو اسمبلی نشست کیلئے چناؤ لڑنے کی اہلیتی عمر کا نہیں ہے، بی جے پی کا سب سے بڑا انتخابی سردرد بن جانا بلاشبہ اس گجرات الیکشن کی سب سے بڑی کہانی ہے۔ لیکن معاملہ تنہا ہاردک پٹیل تک محدود نہیں ہے۔ دو دیگر نمایاں سیاسی چیلنجرز نے بی جے پی کیلئے کم از کم سہ گنا مشکل یقینی بنائی ہے۔ یہ تینوں نے کانگریس کے ساتھ مل کر بی جے پی کے خلاف راست لڑائی طے کردی ہے۔ الپیش ٹھاکور (40 سال) جو او بی سی شتریہ۔ٹھاکور کمیونٹی کا لیڈر ہے اور اکٹوبر میں کانگریس میں شامل ہوگیا، وہ ضلع پٹن میں رادھن پور سے الیکشن لڑرہا ہے۔ جگنیش میوانی (36 سال) جو اُونا کا متوطن دلت لیڈر ہے، اسمبلی حلقہ وڈگام سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں ہے جن کی تائید میں کانگریس نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ الپیش اور جگنیش بھلے ہی ہاردک جیسا کرشمہ نہیں رکھتے یا پٹیل کمیونٹی میں ان جیسی کشش کے حامل نہیں، لیکن وہ اپنی اپنی برادریوں میں قابل لحاظ سیاسی اثر رکھتے ہیں۔
یہ تگڑی کانگریس کیلئے بروقت سیاسی سہارا ثابت ہورہی ہے اور ایک بڑی وجہ ہے کہ کیوں یہ نیا محاذ حالات کو بی جے پی کیلئے واقعی مشکل بنا سکتا ہے۔ گزشتہ اسمبلی چناؤ منعقدہ 2012ء میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان محصلہ ووٹوں کے تناسب کا فرق 10 فیصد تھا۔ بی جے پی نے 48 فیصد اور کانگریس نے 38 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ بی جے پی کی 115 نشستوں والی کامیابی کئی حلقوں میں کانٹے کا مقابلہ ہونے کے بعد درج ہوئی تھی، جہاں اس نے محض 5,000 یا اس سے کم ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔ یہ کامیابی اُس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کی بے تکان انتخابی مہم کے بعد ملی تھی اور اس سے قومی منظر تک اُن کی رسائی کی راہ ہموار ہوئی ، جیسا کہ انھیں اسمبلی چناؤ میں کامیابی کے محض نو ماہ بعد بی جے پی کا وزارت عظمیٰ امیدوار نامزد کردیا گیا تھا۔ بی جے پی کیلئے ایک اور پریشانی یہ ہے کہ کانگریس اسمبلی انتخابات میں متواتر پانچ مرتبہ شکست کے باوجود نڈر حریف کے طور پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس کا ووٹ تناسب 30 فیصد سے کمتر صرف ایک مرتبہ 1990ء میں ہوا جب بی جے پی اور جنتادل میں اتحاد ہوا تھا۔ مودی برسراقتدار آنے کے بعد کانگریس کا ووٹ تناسب کبھی 34 فیصد سے کمتر نہیں ہوا ہے۔

کانگریس کے مانوس رائے دہندوں میں شمالی اور وسطی گجرات میں زائد از 22 فیصد او بی سی شتریہ۔ ٹھاکور، ریاست کے 15 فیصد قبائلی ووٹروں کے قابل لحاظ حصے اور 7.5 فیصد دلت رائے دہندے شامل ہیں۔ جہاں الپیش اور جگنیش کانگریس کو اپنے روایتی ووٹوں کی طاقت کو مضبوط کرنے میں مدد دیں گے، وہیں ہاردک کے ساتھ اتحاد پارٹی کیلئے پٹیل ووٹ بینک کا دہانہ کھول رہا ہے جو ریاست کے رائے دہندوں کا 14 فیصد حصہ ہیں اور ابھی تک بی جے پی کیلئے بھروسہ مند اثاثہ رہے تھے۔
گجرات میں چناؤ سے قبل کی صورتحال واضح ہے۔ بی جے پی کا آج کسی بھی سابقہ اسمبلی چناؤ کے مقابل کمزور موقف ہے ۔ نہ صرف نائب صدر کانگریس راہول گاندھی اثرانداز ہورہے ہیں، بلکہ کانگریس کا ہاردک، الپیش اور جگنیش کے ساتھ اتحاد اسے طاقتور حریف بنا رہا ہے۔ ووٹ کے تناسب میں چھ فیصد کا پلٹاؤ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرسکتا ہے۔ ہارک۔ الپیش۔ جگنیش کی تگڑی کا گجرات کے اس قدر اضلاع میں اثر قائم ہوگیا ہے کہ وہ ریاست کی 182 اسمبلی نشستوں کے منجملہ 125 میں اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ گجرات کی دیگر برادریوں میں ایس ٹیز (14%)، مسلم (10%)، کولی (10%)، دیگر او بی سیز (6%)، برہمن (5%)، بنیا اور دیگر تاجر طبقات (5.5%) شامل ہیں۔
بی جے پی کو امید ہے کہ اترپردیش کی طرح وزیراعظم مودی کو گجرات کی انتخابی مہم میں جھونک کر وہ ایک اور کامیابی حاصل کرلے گی۔ مودی سے قبل شاید ہی کسی وزیراعظم ہند نے ملکی امور کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی ریاستی چناؤ میں اس قدر سرگرمی دکھائی دی تھی جیسے رواں سال کے اوائل وزیراعظم مودی نے کیا۔ اب اسی کا اعادہ گجرات میں کیا جارہا ہے لیکن یو پی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کے الزامات اور پھر یہاں راہول کے ساتھ ہاردک۔ الپیش۔ جگنیش کی تگڑی کے پے در پے حملوں نے بی جے پی کو نڈھال کررکھا ہے۔ وزیراعظم مودی کے انتخابی جلسوں سے عوام کی بیزارگی اور جلسہ گاہ میں سینکڑوں خالی کرسیوں کے نظارے ذرائع ابلاغ میں چرچا کا موضوع بن چکے ہیں۔ بی جے پی نے اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے مرکز اور ریاست کے چند نہیں بلکہ 40 وزراء کو مشغول رکھا ہوا ہے۔ گجرات کوئی شبہ نہیں کہ بی جے پی کیلئے وقار کی لڑائی ہے، جسے ہار دینے کی وہ متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ برسراقتدار پارٹی نے کانگریس اور راہول گاندھی کو تو جم کر نشانہ بنا رکھا ہے لیکن ہاردک۔ الپیش۔ جگنیش کی تگڑی کے تعلق سے وہ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا ہے، شاید اسے نوجوان گجراتیوں کے خلاف سخت موقف سے انتخابی نقصان کا اندیشہ ہے مگر یہ کانگریس کی سب سے بڑی امید ہیں!

TOPPOPULARRECENT