Wednesday , December 12 2018

تیونس، ہندوستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کا خواہشمند

حیدرآباد۔/18جنوری، ( سیاست نیوز) ہندوستان میں تیونس کے سفیر ہز ایکسلینسی طارق اذعوز نے کہا کہ ان کا ملک ہندوستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور تیونس کی دوستی 1958 سے قائم ہے اور اس میں روزافزوں استحکام ہورہا ہے۔ تیونس کے قائدین ہندوستانی جمہوریت اور یہاں کی قیادت سے ہ

حیدرآباد۔/18جنوری، ( سیاست نیوز) ہندوستان میں تیونس کے سفیر ہز ایکسلینسی طارق اذعوز نے کہا کہ ان کا ملک ہندوستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور تیونس کی دوستی 1958 سے قائم ہے اور اس میں روزافزوں استحکام ہورہا ہے۔ تیونس کے قائدین ہندوستانی جمہوریت اور یہاں کی قیادت سے ہمیشہ ہی متاثر رہے ہیں اور تیونس کی جدوجہد آزادی میں ہندوستان کی تائید کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تیونس کے سفیر آج حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انڈو عرب لیگ کے صدر نشین جناب سید وقار الدین کی دعوت پر وہ حیدرآباد کے دورہ پر ہیں۔ اس دورہ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہم تجارت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں رشتوں کو مستحکم کرنا ہے۔ تیونس کے سفیر نے آج عثمانیہ یونیورسٹی کا دورہ کیا اور بیرونی طلبہ کیلئے موجود تعلیمی سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے آندھرا پردیش چیمبر آف کامرس سے وابستہ صنعت کاروں سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ وینچرس کے آغاز کا جائزہ لیا۔

پریس کانفرنس کے دوران طارق اذعوز نے تیونس میں حالیہ انقلاب اور اس کے بعد کی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تیونس کی حکومت عوام کی ترقی کیلئے کئی ایک اقدامات کررہی ہے ساتھ ہی ساتھ مختلف ممالک سے تعلقات کے استحکام اور تجارت میں فروغ کو ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیونس ہندوستان کو فاسفیٹ اور فرٹیلائزر کی سربراہی کا قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ تیونس میں تیار ہونے والی کئی اشیاء ہندوستانی مارکٹ میں کافی مقبول ہیں جن میں تیل، کھجور، لیدر کی اشیاء شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انقلاب کے بعد ہندوستان اور تیونس کے درمیان تعلقات کے استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔تیونس کے سفیر نے بتایا کہ بائیو ٹکنالوجی، سائنس و ٹکنالوجی، انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن، فارماسیوٹیکلس، ٹیکسٹائیلس اور دیگر شعبوں میں باہمی تجارت میں فروغ کیلئے دونوں ممالک کے مشترکہ ورکنگ گروپس کام کررہے ہیں۔ اپریل 2012ء میں ہند۔ تیونس جوائنٹ کمیشن کا نئی دہلی میں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد نومبر 2012 میں مرکزی وزیر خارجہ ای احمد نے تیونس کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً ایک بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور 2015تک اس میں مزید اضافہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ سفیر تیونس نے کہا کہ دونوں ممالک کے طلبہ کے باہمی تبادلہ کیلئے بھی مساعی کی جارہی ہے کیونکہ ہندوستانی طلبہ کو تیونس میں تعلیم کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح تیونس کے طلبہ ہندوستانی یونیورسٹیز میں تعلیم کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے ہندوستانی یونیورسٹیز میں بہتر اور معیاری تعلیم کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ فرٹیلائزرس کی تیاری سے متعلق ہندوستان کی دو کمپنیوں گجرات فرٹیلائزرس اور کورامنڈل فرٹیلائزرس کے ساتھ تیونس کی دو کمپنیوں نے مشترکہ پراجکٹ کے آغاز کا معاہدہ کیا ہے۔ جناب سید وقار الدین صدر نشین انڈو عرب لیگ نے سفیر تیونس کا تعارف کرایا اور کہا کہ انقلاب کے بعد تیونس ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور تجارت کے فروغ کیلئے انڈو عرب لیگ کی جانب سے ہر ممکن مساعی کا تیقن دیا۔ اس موقع پر ہندوستان میں تیونس کے نائب سفارتکار عمران اور انڈو عرب لیگ کے نمائندہ ڈاکٹر اکبر علی خاں موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT