Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / تیگل کنٹہ اور نواب صاحب کنٹہ سے آرٹی سی کے نئے بس روٹس کی ضرورت

تیگل کنٹہ اور نواب صاحب کنٹہ سے آرٹی سی کے نئے بس روٹس کی ضرورت

حیدرآباد ۔ 20 فروری(نمائندہ خصوصی ) ۔ پرانے شہر کے عوام کے لئے اے پی ایس آرٹی سی کی بسوں کی قلت عام بات ہے ۔ اس کے باوجود نا تو حکومت کچھ کررہی ہے اور نا ہی مقامی لیڈر اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے بس مسافرین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرانے شہر کے علاقے تیگل کنٹہ اور نواب صاحب کنٹہ میں 70نمبر بس چارمینار تا تیگل کنٹہ ر

حیدرآباد ۔ 20 فروری(نمائندہ خصوصی ) ۔ پرانے شہر کے عوام کے لئے اے پی ایس آرٹی سی کی بسوں کی قلت عام بات ہے ۔ اس کے باوجود نا تو حکومت کچھ کررہی ہے اور نا ہی مقامی لیڈر اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے بس مسافرین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرانے شہر کے علاقے تیگل کنٹہ اور نواب صاحب کنٹہ میں 70نمبر بس چارمینار تا تیگل کنٹہ روٹ پر چلائی جاتی ہے ۔لیکن یہاں کے لوگ افضل گنج، کوٹھی، عابڈس،مہدی پٹنم،امیر پیٹ، نارائن گوڑہ،اُپل، دلسکھ نگر،سنتوش نگر وغیرہ روزآنہ سفر کرتے ہیں۔جس کے لئے لوگوں کو دو یا تین بسیں بدلنی پڑتی ہیں۔ یہاں پر ہزاروں کی تعدادمیں بس مسافرین موجود ہیں لیکن بسوں کے اوقات کا علم نہ ہونے اور بسوں کے لئے گھنٹوں تک انتظار کرنے کے ڈر سے لوگ آٹو کا سہارا لے رہے ہیں۔ بس پاس رکھنے کے باوجود لوگ آٹو میں پیسے ڈال رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے غریب افرادکوبہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ تیگل کنٹہ سے سکندرآباد کے لئے صبح 8نمبر بس دو ٹرپ کرتی ہے، جس میں ملازمین سمیت طلباء کو بھی سفرکی آسانی میسر ہوتی ہے۔

لیکن اس کے برعکس دوسرے مقامات جیسے کوٹھی دلسکھ نگر ، مہدی پٹنم وغیرہ روزآنہ سفر کرنے والوں کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ اے پی ایس آرٹی سی نے جب سے چھوٹی بسوں کو متعارف کرایا ہے تب سے بس مسافرین کو نئے بس روٹس میں اِس علاقے کو بھی شامل کرنے کی امید جاگی تھی۔لیکن آج تک ان لوگوں کی امید پوری نہیں ہوپائی ہے۔ اس علاقے کے اسکول و کالج کے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ سرکاری و غیر سرکاری ملازمین سمیت ضعیف افراد کو بھی بس کی قلت کی وجہ سے کافی دشواریاں ہو رہی ہیں۔یہ افراد شہر کے مختلف مقامات پر جاکر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔کئی افراد ٹرافک کے مسائل سے بچنے کے لئے بسوں کا سہارا لیتے ہیں۔ بس مسافروں سے بھری ہونے کے باوجود لوگ بس میں ہی سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پرانے شہر کے بس ڈپوز جیسے فلک نما، راجندرنگر اور بنڈلہ گوڑہ کے منیجر وں کو کئی بار عوام نے اس مسئلہ کے حل کے لئے متوجہ کرایا ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔تیگل کنٹہ اور نواب صاحب کنٹہ کے عوام نے اے پی ایس آرٹی سی کے ایم ڈی سے اپیل کی ہے کہ وہ افضل گنج، کوٹھی، عابڈس،مہدی پٹنم،امیر پیٹ، نارائن گوڑہ،اُپل، دلسکھ نگر،سنتوش نگر وغیرہ کے لئے بسیں فراہم کریں اور اوقات کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں تاکہ بس مسافرین کو آسانی سے اپنی منزل کو جانے میں سہولت ہوسکے۔یہاں کے غریب عوام نے مقامی کارپوریٹروں ، ایم ایل اے اور ایم پی سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں اور عوام کو ہورہی مشکلات سے راحت پہنچائیں تا کہ غریب عوام کا وقت اور پیسہ برباد نہ ہو۔یہاں کے طلباء و طالبات نے مقامی لیڈروں پر الزام عائد کیا کہ اس علاقے میں کئی برس سے بسوں کی قلت ہے لیکن کوئی بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT