Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ت26     تا 28 اپریل عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب

ت26     تا 28 اپریل عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب

آئندہ ہفتہ تقاریب کا لوگو ، بروچر اور پوسٹر کا رسم اجراء ، ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ 26 تا 28 اپریل کو عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب منعقد ہوں گی ۔ تقاریب کو تاریخی اور یادگار بنانے کے لیے حکومت سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ تلنگانہ اور عثمانیہ یونیورسٹی کا اٹوٹ رشتہ ہے ۔ آئندہ ہفتہ چیف منسٹر کے سی آر صد سالہ تقاریب کا لوگو ، بروچر اور پوسٹرس کی رسم اجراء انجام دیں گے ، کڈیم سری ہری نے آج ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے تقاریب کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔ جس میں ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشو راؤ ، مشیر حکومت پاپا راؤ ، صدر نشین ہائیر ایجوکیشن کونسل پاپی ریڈی ، وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی رامچندرم ، جے این ٹی یو کے وائس چانسلر وینو گوپال ریڈی کے علاوہ دیگر عہدیدار موجود تھے ۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے صد سالہ تقاریب کو یادگار اور تاریخی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ہدایت دی ۔ سہ روزہ تقاریب میں تلنگانہ کی ترقی تہذیب و تمدن کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ تقاریب کو پر اثر یادگار بنانے کے لیے جملہ 30 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں سیناریٹی سلیبریشن کمیٹی ، ریسپـشن کمیٹی اور آرگنائزنگ کمیٹیوں کا اہم رول ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب میں وزارت انسانی فروغ وسائل ، اے آئی سی ٹی یو ، یو جی سی کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔ جبکہ مرکزی حکومت سے فنڈز فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ۔ 27 اپریل کو آل انڈیا وائس چانسلرس کا اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ 28 اپریل کو انڈین انٹرنیشنل سائنس فیر کا حیدرآباد میں انعقاد کرنے سے مرکز نے وصولی طور پر اتفاق کیا ہے ۔ جس میں مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کریں گے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی نیاک (NAC) شناخت سے محروم ہوجانے کی تردید کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریگولر وائس چانسلر نہ ہونے کی وجہ سے تجدید عمل میں نہیں آئی ہے ۔ مارچ تک تجدید کی توقع ظاہر کی ہے ۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کے میس بقایا جات جاری کردئیے گئے ہیں ۔ طلبہ کے جو بھی مسائل ہیں اس کو حکومت فوری حل کرے گی ۔ چند کنٹراکٹ لکچررس سیاسی دباؤ کا شکار ہیں جس سے ان کا ہی نقصان ہے ۔ کنٹراکٹ لکچررس کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت نے جی او 14جاری کرتے ہوئے تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا ہے ۔ 18 ہزار سے بڑھا کر 27 ہزار روپئے کردئیے گئے ہیں ۔ ان کی خدمات کو مستقل بنانے کے لیے بھی حکومت سنجیدہ کوشش کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT