Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / جئیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے خلاف ریڈکارنر نوٹس

جئیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے خلاف ریڈکارنر نوٹس

وارنٹس کی اجرائی کے بعد انٹرپول کی تازہ کارروائی ۔ پاکستان میں کسی کارروائی کا امکان نہیں
نئی دہلی 17 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان سے کام کرنے والی ممنوعہ تنظیم جئیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف انٹرپول سے آج ایک تازۃ ریڈ کارنر نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ یہی نوٹس ان کے بھائی عبدالرؤف کے خلاف بھی جاری کی گئی ہے ۔ یہ کارروائی پٹھان کوٹ میں ائر فورس ٹھکانہ پر ہوئے حملہ کے ضمن میں کی گئی ہے ۔ این آئی اے نے مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف کے خلاف پہلے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیاتھا اورا س کا الزام ہے کہ ان دونوں نے پٹھان کوٹ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سازش کی تھی اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا تھا ۔ یہ حملہ یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب ہوا تھا ۔ اس حملہ میں سات سکیوریٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ چار دہشت گردوں کی نعشیں بھی انکاؤنٹر کے مقام سے دستیاب ہوئی تھیں۔ یہ سارا حملہ اور انکاؤنٹر تقریبا 80 گھنٹوں تک چلتے رہے تھے ۔ مسعود اظہر کے خلاف تازہ ناقابل ضمانت وارنٹ کی اجرائی بھی ایسا لگتا ہے کہ محض رسمی کارروائی ہے کیونکہ ان دونوں کے خلاف پہلے سے جاری گرفتاری کے وارنٹس پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ 48 سالہ مسعود اظہر کے خلاف پہلے ہی ایک ریڈ کارنر نوٹس موجود ہے جو پارلیمنٹ اور جموں و کشمیر ریاستی اسمبلی پر ہوئے حملوں کے سلسلہ میں جاری کی گئی تھی ۔ اسی طرح کے وارنٹ عبدالرؤف کے خلاف بھی زیر التوا ہیں۔ یہ وارنٹ 1999 میں ائر انڈیا کی پرواز کے اغوا کے سلسلہ میں جاری کردہ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مکتوب وزارت خارجہ کو روانہ کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے ساتھ اس سلسلہ میں پیشرفت ممکن ہوسکے ۔ این آئی اے کے ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مارچ کے مہینے میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور پٹھان کوٹ حملہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں کچھ شواہد مجتمع کئے تھے ۔ ہندوستان کا الزام ہے کہ یہ حملہ پاکستان سے کام کرنے والی تنظیم جئیش محمد نے کیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT