Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / جئے شاہ کی کمپنی میں کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ امیت شاہ

جئے شاہ کی کمپنی میں کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘ امیت شاہ

Bengaluru: BJP National Preisdent Amit Shah speaks at a press conference during his three day visit to Bengaluru on Monday. PTI Photo by Shailendra Bhojak (PTI8_14_2017_000091A)

کانگریس نے کبھی کرپشن کے الزامات پر عدالت میں مقدمات دائر نہیں کئے ۔ بی جے پی صدر کی جانب سے فرزند کی بھرپور مدافعت
احمد آباد 13 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آج کہا کہ ان کے فرزند جئے امیت شاہ کی کمپنی میں کرپشن کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اور اس کو ایک روپیہ مالیت کی بھی کوئی سرکاری اراضی یا کنٹراکٹ وغیرہ نہیں ملا ہے ۔ وہ ایک نیوز پورٹل دی وائر میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کا حوالہ دے رہے تھے ۔ اس میں ادعا کیا گیا تھا کہ جئے امیت شاہ کی ملکیت والی کمپنی کے ٹرن اوور میں 2014 میں بی جے پی کے مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ بی جے پی صدر نے کانگریس پر تنقید کی اور کہا کہ کانگریس کے خلاف کئی مرتبہ کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے تھے لیکن پارٹی نے کسی کے خلاف بھی ہتک عزت کا کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا ہے جبکہ ان کے فرزند جئے شاہ نے ان کے خلاف عائد کئے گئے الزامات پر عدالت میں ایسا مقدمہ دائر کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جئے شاہ کی کمپنی میں کسی کرپشن کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں خود کچھ سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔ کیا اس پارٹی نے کبھی کوئی ہتک عزت کا فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے یا پھر اس پارٹی نے کبھی 100 کروڑ کا کوئی سیول ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کیا ہے ؟ ۔ امیت شاہ ایک ٹی وی چینل پر منعقدہ پروگرام میں سوالات کے جواب دے رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جئے امیت شاہ نے ایک ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے اور عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس سارے معاملہ کی تحقیقات کی مانگ بھی کی ہے ۔ یہی کام بی جے پی نے بھی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک جئے کی کمپنی کا سوال ہے اس نے حکومت کے ساتھ ایک روپئے کا بھی کاروبار نہیں کیا ہے ۔

اس کمپنی کو ایک روپیہ مالیت کا بھی کوئی سرکاری کنٹراکٹ حاصل نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کمپنی نے بوفورس کی طرح کسی بھی معاملہ میں کوئی کمیشن حاصل نہیں کیا ہے ۔ امیت شاہ نے اس طرح بوفورس توپ معاملت کا مسئلہ اٹھایا جو رشوت کی ادائیگی سے متعلق ہے ۔ اس مسئلہ پر 1990 کی دہائی میں کانگریس پارٹی دہل کر رہ گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کی جو کمپنی ہے وہ چاول اور دالوں جیسی اشیا کی تجارت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے 80 کروڑ روپئے کا نفع حاصل کیا ہے ۔ تاہم یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ اس کمپنی کو دیڑھ کروڑ روپئے کا نقصان بھی ہوا ہے ۔ یہ انتہائی کم نفع والا کاروبار ہے اور اس میں منی لانڈرنگ کہاں سے آگئی ؟ ۔ کمپنی کو دئے گئے قرضہ کے تعل سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کو پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی قرض نہیں تھا ۔ یہ صرف ایک لیٹر آف کریڈٹ تھا ۔ ہم نے کو نقد ڈپازٹس کی بجائے کریڈٹ دیا گیا تھا تاکہ ہم یہ اشیا حاصل کرسکیں۔ جئے کی رقم بینک میں رکھی تھی اور ہم نے یہ قرض سود کے ساتھ ادا کردیا ہے ۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سارے معاملہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور امیت شاہ کو بی جے پی کی صدارت سے ہٹایا جائے ۔ بی جے پی نے اپنے صدر کے فرزند کے خلاف الزامات کو مستردک ردیا ہے اور اس رپورٹ کو جھوٹی اور ہتک آمیز قرار دیا ہے ۔ 9 اکٹوبر کو جئے امیت شاہ نے میٹرو پولیٹن عدالت احمد آباد میں ایک فوجداری مقدمہ دائر کرتے ہوئے سات افراد کو جوابدہ بنایا ہے ۔ان میں اس رپورٹ کے مصنف اور دی وائیر کے کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT