جائیداد ٹیکس سے منہا کردہ انکم ٹیکس کی رقم کہاں گئی ؟

جائیداد کو مہر بند کرنے میں جی ایچ ایم سی آگے ، محصولات کی وصولی پر خاموش تماشائی

جائیداد کو مہر بند کرنے میں جی ایچ ایم سی آگے ، محصولات کی وصولی پر خاموش تماشائی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : کمشنر و اسپیشل آفیسر مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کو عوام سے محصولات کی وصولی اور بقایا جات کی عدم ادائیگی پر جائیدادوں کو مقفل کرتے ہوئے مہر بند کرنے میں بڑی دلچسپی ہے اور وہ اس طرح کی کارروائیوں کی ستائش بھی کررہے ہیں ۔ لیکن کیا کمشنر صاحب اپنے ان ماتحتین کیخلاف بھی کارروائی کریں گے جو عوام سے موصول کئے گئے محصولات کی انکم ٹیکس کو ادائیگی کے بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ؟ جی ایچ ایم سی کی جانب سے سڑکوں کی توسیع اور دیگر ترقیاتی مقاصد کے لیے قانون حق حصول اراضیات کے تحت شہریوں کی جائیدادیں حاصل کی گئی ہیں اور کئی شہری معمولی معاوضہ کے عوض بخوشی اپنی اراضیات حوالے کرنے تیار ہوتے ہوئے رضا مندی ظاہر کرچکے ہیں اور سینکڑوں شہریوں نے معاوضہ حاصل کرلیا ہے ۔ قوانین کے مطابق حصول جائیداد پر متاثرین کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بذریعہ چیک معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اور اس طرح معاوضہ کی مکمل رقم محسوب آمدنی میں شامل ہوجاتی ہے جب کبھی کوئی سرکاری محکمہ کسی کو ادائیگی کرتاہے تو ایسی صورت میں جملہ رقم سے انکم ٹیکس منہا کرلیاجاتا ہے تاکہ سرکاری محکمہ جات کی جانب سے محکمہ انکم ٹیکس کو یہ رقم روانہ کردی جائے اور جس ٹیکس دہندہ سے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اسے ٹی ڈی ایس فارم کی نقل حوالے کردی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے انکم ٹیکس حساب کتاب میں بطور ریٹرنس یہ داخل کردے ۔ یہی طریقہ کار مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد میں بھی اختیار کیاگیا ہے اور بلدیہ نے جو جائیدادیں حاصل کی ہیں اس کے متاثرین کو کروڑہا روپئے کے چیکس جاری کئے لیکن ان چیکس کی اجرائی کے ساتھ ہی انکم ٹیکس منہاکرلیا گیا اور متاثرین کو منہا کردہ رقومات کے ٹی ڈی ایس فارمس جاری کردئیے گئے لیکن کیا جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے انکم ٹیکس ( ٹی ڈی ایس ) کے نام پر وصول کردہ یہ رقومات محکمہ انکم ٹیکس میں جمع کروائی ہیں ؟ نہیں تو پھر اس کے لیے جوابدہ کون ہے اور ٹی ڈی ایس کی یہ رقومات کہاں ہیں ؟ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے عہدیدار اس بات کا خاطر خواہ جواب دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں اور محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیدار متاثرین سے جو کہ جائیداد حوالے کرتے ہوئے رقومات حاصل کئے ہیں انہیں ٹیکس ادا کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں انکم ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکبین کی فہرست میں شامل کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے ۔ شہری ترقیاتی منصوبہ کو قابل عمل بنانے میں تعاون کرنے والے شہریوں کو ہورہی اس ہراسانی کے لیے راست طور پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدار ذمہ دار ہیں چونکہ جو لوگ اپنی جائیداد ترقیاتی عمل کے لیے حوالے کرتے ہوئے معاوضہ حاصل کرتے ہیں جو بازار کی قیمت سے کافی کم ہوتا ہے اور پھر متاثرین کو حاصل ہونے والے معاوضہ سے ٹیکس منہا کرلیا جاتا ہے ۔ ٹیکس منہا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں چونکہ ٹیکس کا حصول حکومت کا حق ہے لیکن جب متاثرین سے ٹیکس حاصل کرلیاجائے اور متعلقہ محکمہ کو روانہ کرنے میں کوتاہی اختیار کی جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹیکس منہا کرنے والے محکمہ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اسی لیے منہا کردہ رقومات متعلقہ محکمہ کو روانہ نہیں کی گئیں ۔ تین سال قبل جن جائیداد مالکان نے اپنی جائیدادیں حوالے کی ہیں ان جائیداد مالکان کے منہا کردہ محصولات اب تک بھی محکمہ انکم ٹیکس کو روانہ نہیں کئے گئے ہیں اور اب محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ان جائیداد حوالے کرنیوالوں پریہ واضح کیا جانے لگا ہے اور جائیداد حوالے کرنے سے حاصل ہونے والے معاوضہ کا ٹیکس مالی سال کے اختتام سے قبل یعنی 31 مارچ تک ادا کردیا جائے بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ متاثرین نے اسپیشل آفیسر و کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر سومیش کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فوری اقدامات کرتے ہوئے شہری ترقیاتی عمل میں معاونت کرنے والے شہریوں کو محکمہ انکم ٹیکس کی امکانی کارروائیوں کا نشانہ بننے سے بچائیں اور معاوضہ سے منہا کردہ ٹیکس فوری طور پر محکمہ انکم ٹیکس کو منتقل کرواتے ہوئے متاثرین کو راحت پہنچانے کے اقدامات کریں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT