Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جائیداد ٹیکس کی عدم ادائیگی پر جائیدادیں ضبط کرنے کی تجویز

جائیداد ٹیکس کی عدم ادائیگی پر جائیدادیں ضبط کرنے کی تجویز

ریڈ نوٹس کی اجرائی ، وارنٹس بھی جاری کئے جائیں گے ، خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل

حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) جائیداد ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کی جاچکی ہیں اور اب جی ایچ ایم سی وارنٹس بھی جاری کرنے کی تجویز رکھتا ہے اور وارنٹ کی اجرائی کے بعد متعینہ وقت میں جائیداد ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق اعلیٰ عہدیداران کے جائزہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے، البتہ اس فیصلے کے دائرہ کار میں صرف تجارتی و تعمیراتی ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد ہی آئیں گے۔ رہائشی زمرے کی عمارتوں کی ٹیکس دہندے اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گے۔ 2017-18ء مالی سال 31 مارچ کو اختتام ہوجائے گا اور امسال 1500 کروڑ ٹیکس وصولی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا مگر تاحال صرف 918 کروڑ ٹیکس ہی وصول کیا جاچکا ہے اور مالی سال کے اختتام کیلئے صرف 45 دن باقی ہونے کی وجہ سے بقایاجات ادا نہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے جی ایچ ایم سی عہدیداران زبردستی ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوٹس دینے کے بعد بھی امید کے مطابق ٹیکس وصول نہ ہونے پر سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریٹر کے حدود میں 14.5 لاکھ افراد جائیداد ٹیکس دہندگان ہیں جن میں سے صرف 7.5 لاکھ افراد ہی باقاعدہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور مابقی افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں ۔ تاحال 7 لاکھ افراد کو ریڈ نوٹس جاری کی جاچکی ہیں۔ سرکاری پراجیکٹوں کی تکمیل کی ذمہ داری بلدیہ پر عائد کی گئی ہے۔ ڈبل بیڈروم مکانات، سڑکوں کے تعمیری کام کے علاوہ دیگر ترقیاتی کاموں کیلئے بھی بلدیہ کی جانب سے ہی ادائیگی کی ذمہ داری ہے۔ ایس آر ڈی پی کیلئے بانڈس کی اجرائی کے علاوہ ازیں حکومت نے بلدیہ کو پابند بنایا ہے کہ روچی ٹرم لون کے ذریعہ 3,500 حاصل کئے جائیں۔ اتنی کثیر رقم کی وصولی کیلئے بلدیہ کی آمدنی میں بھی اضافہ کی متوقع ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاہم ٹیکس وصولی کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری کی سطح پر باقاعدہ بل کلکٹرس، ٹاؤن پلاننگ صدر دیگر عملہ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالی اداروں نے جی ایچ ایم سی کے کریڈٹ ریٹنگ کو اے اے کا درجہ دیا ہے۔ اگرچہ یہ گریڈ امتیازی حیثیت رکھتا ہے تاہم اس معاملے میں آمدنی کافی زیادہ بتانا ہوتا ہے۔ اسی صورت میں سرمایہ دار افراد سرمایہ کاری کیلئے آگے آتے ہیں۔ 200 کروڑ روپئے کے بانڈس کی اجرائی کیلئے 16 فروری کو ممبئی ایکسچینج میں الیکٹرانکس بڈس داخل کئے جانے والے ہیں۔ اگرچہ فی الحال کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے مگر مستقبل میں بانڈس کی اجرائی اور لون حاصل کرنے کیلئے بلدیہ کی آمدنی کافی اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ عظیم تر بلدیہ حیدرآباد کے احاطہ میں ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے والوں کی جانب سے تقریباً 1,000 کروڑ روپئے وصول ہوتا ہے، نوٹس جاری کئے جانے کے باوجود بہت سے لوگ اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور اسی وجہ سے جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خاص طور پر سنٹرل، نارتھ، ایسٹ اور ساؤتھ زونس میں بقایاجات ادا نہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک عہدیدار کے مطابق ہر ایک زون میں 300 افراد کو نوٹسیں جاری کی گئی ہیں۔ نوٹس کی اجرائی کے ایک ہفتہ تک بھی ان افراد کی جانب سے عدم ادائیگی کی صورت میں دکانات، دفاتر میں موجود، فرنیچرس اور دیگر اشیاء و املاک ضبط لی جائیں گی۔ گزشتہ دنوں ایسا بھی ہوا ہے کہ عہدیداران ضبط کرنے پہونچنے کی صورت میں انہیں چیکس حوالے کرکے بچ جاتے ہیں تو بعض عہدیداروں بھی ٹیکس دہندوں سے چیکس دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور یہ چیکس بینکوں میں باؤنس ہونے کی وجہ سے ٹیکس کی وصولی مشکل ہورہی ہے۔ اس لئے عہدیداران نے اس مرتبہ چیکس کی اصولی میں احتیاط اور سختی برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT