Sunday , August 19 2018
Home / شہر کی خبریں / جادوگروں کیساتھ پولیس کی نرمی سے دوبارہ حوصلے بلند،فرضی کالا جادو کے نام عوام کے استحصال میں اضافہ، پولیس کو دوبارہ مہم چلانے کی ضرورت

جادوگروں کیساتھ پولیس کی نرمی سے دوبارہ حوصلے بلند،فرضی کالا جادو کے نام عوام کے استحصال میں اضافہ، پولیس کو دوبارہ مہم چلانے کی ضرورت

حیدرآباد۔ 24ڈسمبر(سیاست نیوز) پرانے شہر میں عامل اور جادوگروں کے خلاف پولیس کی مہم میں نرمی کے ساتھ ہی دوبارہ دھوکہ دہی کا یہ کاروبار تیزی سے عروج پر پہنچ چکا ہے اور جھوٹے کالے جادوگر عوام کا استحصال کرنے لگے ہیں ۔ پرانے شہر کی سلم بستیوں میں جاری تعویذ ‘ گنڈے کے اس کاروبار کو ختم کرنے کیلئے محکمہ پولیس کی جانب سے گذشتہ برسوں کے دوران زبردست مہم کے بعد اس میں کافی کمی دیکھی جانے لگی تھی لیکن اب دوبارہ یہ نام نہاد جادوگر سرگرم ہونے لگے ہیں اور ان کے کاروبار دوبارہ چلنے لگے ہیں۔ دونوں شہرو میں محکمہ پولیس کی جانب سے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چلانے کی ضرورت ہے جو معصوم شہریو ںکو دھوکہ دیتے ہوئے انہیں گمراہ کر رہے ہیں اور لوٹ کھسوٹ مچائے ہوئے ہیں۔ محکمہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے باوجود شہریوں کا ان سے رجوع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی سے ان کے کاروبار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ اس طرح کی حرکتو ں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی اس بات کا شعور بیدار کیا جانا چاہئے کہ وہ اس طرح کی توہم پرستی سے دوری اختیار کریں ۔ شہر میں موجود دینی اداروں اور مساجد کے ذمہ داروں کو اس طرح کی توہم پرستی سے عوام کو دور کرنے کیلئے شعور بیداری مہم چلانی چاہئے کیونکہ توہم پرستی کا شکار افراد نہ صرف اپنی محنت کی کمائی سے ہاتھ دھونے لگے ہیں بلکہ بسا اوقات علاج کے نام پر دھوکہ دینے والوں کی جانب سے معصوم لڑکیوں کی عصمت سے کھلواڑ کی شکایات بھی منظر عام پر آچکی ہیں ۔ شہر کے کئی علاقو ںمیں ایسے ادارے جہاں یہ عامل علاج و معالجہ کے مطب کے نام پر چلا رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی ناگزیر ہوچکی ہے ۔ محکمہ پولیس کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ ان جادوگروں کے خلاف کاروائی کے دوران ان پر کوئی سنگین دفعات کے تحت مقدمات عائد نہیں کئے جاسکتے اسی لئے وہ جلد راحت حاصل کرتے ہوئے واپس اپنے کاروبار شروع کرنے لگے ہیںاور بعض جادوگروں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہونے کے سبب وہ من مانی چلا رہے ہیں اسی لئے محکمہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے ساتھ اگر مذہبی ذمہ داروں کی جانب سے عوام میں توہم پرستی کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اسی لئے مذہبی قائدین کو اس مسئلہ کی سنگینی کا جائزہ لیتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچ کر ان میں شعور اجاگر کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT