Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / جادھو مقدمہ میں پاکستان کی جوابی یادداشت کی 17 جولائی کو پیشکش

جادھو مقدمہ میں پاکستان کی جوابی یادداشت کی 17 جولائی کو پیشکش

موسم گرما میںآئندہ سماعت مقرر۔ پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی اطلاع

اسلام آباد 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے بموجب سزائے موت یافتہ ہندوستانی شہری کلبھوشن جادھو کے بارے میں جسے ایک فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات پر سزائے موت دی تھی پاکستان اپنا دوسرا تحریری جواب بین الاقوامی عدالت انصاف میں 17 جولائی کو داخل کرے گا۔ بین الاقوامی عدالت مزید مہلت کی مدت ہندوستان اور پاکستان کی نمائندگیوں کے لئے دینے کے مقصد سے تعین کرے گی۔ ہندوستان نے 17 اپریل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک یادداشت پیش کی ہے۔ 17 جولائی کو پاکستان اس کا تحریری جواب داخل کرے گا۔ اعلیٰ سطحی اٹارنی خاور قریشی نے جو ابتدائی مرحلہ میں اسی مقدمہ میں پاکستان کی پیروی کرچکے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان ناصرالملک کو گزشتہ ہفتہ مقدمہ کی تفصیل سے واقف کرواچکے ہیں۔ اب پاکستان کے مقدمے کے پیروی اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور دیگر سینئر عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے۔ روزنامہ ٹریبیون نے اس کی اطلاع دی۔ روزنامہ نے کہاکہ یادداشت کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے۔ دوسری جوابی یادداشت پیش کرنے کے بعد بین الاقوامی عدالت انصاف سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی جو آئندہ سال متوقع ہے۔ ایک سینئر قانون داں نے جو بین الاقوامی مقدمات کا تجربہ رکھتا ہے روزنامہ سے کہاکہ جاریہ سال سماعت کا امکان نہیں ہے کیوں کہ آئندہ سال مارچ ۔ اپریل تک دیگر مقدمات کی سماعت جو شروع ہوچکی ہے، جاری رہے گی۔ چنانچہ جادھو کے مقدمہ کو آئندہ سال موسم گرما کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ہندوستان گزشتہ سال مئی میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع ہوا تھا جبکہ 48 سالہ جادھو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ 18 مئی کو عدالت کی ایک دس رکنی بنچ نے پاکستان کو مقدمہ کی سماعت کی تکمیل تک جادھو کو سزائے موت پر عمل آوری نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہندوستان نے تحریری دلیل دیتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے جو یہ نہیں کہتا کہ جاسوسی کے ملزم تک قونصلر کو رسائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ پاکستان نے ہندوستانی قونصل جنرل کو جادھو تک رسائی دینے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان نے اپنی جوابی تحریری یادداشت میں کہا تھا کہ ویانا کنونشن صرف افراد پر لاگو ہوتا ہے اور پوشیدہ کارروائیاں کرنے والوں کا احاطہ نہیں کرتا۔ چونکہ جادھو نے ایک فرضی مسلم نام کے پاسپورٹ پر سفر کیا تھا اس لئے انھیں اس مقدمہ میں دلائل پیش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ ہندوستان نے اس الزام کی تردید نہیں کی۔
اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ بحریہ کا ایک برسر خدمت کمانڈر ایسی حرکت کیسے کرسکتا ہے۔ چنانچہ اسے جاسوسی کی ذمہ داری دیا جانا ثابت ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT