Thursday , April 26 2018
Home / ہندوستان / جادھو پور یونیورسٹی عہدیداروں کا کارروائی کا تیقن

جادھو پور یونیورسٹی عہدیداروں کا کارروائی کا تیقن

احتجاجی دھرنا ختم ، آدھی رات کے بعد طلبہ یونینوں کو حکومت کی تشویش سے آگاہی
کولکاتہ ۔ 17جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) جادھو پور یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاجی دھرنا آدھی رات کے کچھ دیر بعد ختم کردیا گیا ، جبکہ عہدیداروں نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا تیقن دیا اور طلبہ یونینوں کو آدھی رات کے قریب حکومت کی تشویش سے بھی واقف کروایا گیا اور ایک قانون وضع کرنے کا بھی تیقن دیا گیا جس سے طلبہ کے مطالبات کی یکسوئی ہوسکے ۔ مغربی بنگال کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے انتظامیہ اور قواعد بل 2017 ء گزشتہ سال فبروری میں منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ریاستی حکومت اس قانون کے قواعد اور طریقہ کار کی پابند کی گئی تھی جس کے تحت یونیورسٹی کے احاطہ میں انتخابات منعقد ہوسکیں۔ آرٹس شعبہ کی طلبہ یونین کے ارکان اور انجینئرنگ ٹکنالوجی طلبہ یونین کے ارکان انتظامیہ کی عمارت کے روبرو پیر کی شام 4 بجے سے قانون کے خلاف بطور احتجاج دھرنا دے رہے تھے ۔ آرٹس طلبہ یونین کے ایک قائد سوما سری چودھری نے کہا کہ 31 گھنٹہ طویل دھرنا آج تقریباً ایک بجے شب ختم کردیا گیا جبکہ وائس چانسلر نے تحریری تیقن طلبہ کو دیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ آج 3 بجے دن تک یونیورسٹی احاطہ میں انتخابات کے انعقاد کیلئے کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئے گی ۔ ربط پیدا کرنے پر وائس چانسلر سورنجن داس نے کہا کہ ہاں ! ایک اجلاس کمیٹی تشکیل دینے کے لئے آج دوپہر طلب کیا گیا تھا اور وائس چانسلر کے حامی یہاں پر مجلس عاملہ کے طلبہ ارکان کے ساتھ یہاں پہونچیں گے ۔ اُن کے ہمراہ یونین کے نمائندے ، اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کے نمائندے بھی ہوں گے ۔ جادھو پور یونیورسٹی سینئر ٹیچرس اسوسی ایشن کے ایک رکن نے کہا کہ کل عہدیداروں نے کہاتھا کہ وہ اپنے نظریات اور تشویش سے طلبہ کو واقف کروانے اور کونسل تشکیل دینے کے بارے میں نظریات کی طلبہ کو اطلاع دیں گے تاکہ منتخبہ یونینیں معطل یونینوں کی جانشین بن سکیں ۔ قطعی آخری مہلت میں 31 جنوری تک توسیع دی جائے گی تاکہ طلبہ یونینیں تحلیل کی جاسکیں۔ وائس چانسلر نے احتجاجی طلبہ سے جن کا تعلق مختلف طلبہ یونینوں سے تھا کہا کہ ایک کمیٹی جلد از جلد تشکیل دی جائے گی ۔ طلبہ کو کسی اور تعلیمی ادارے کے نمونے پر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اگسٹ میں طلبہ نے 30 گھنٹہ طویل احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا ، تاہم اسے بعد ازاں ملتوی کردیا گیاتھا ۔

TOPPOPULARRECENT