Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / جادھو کیس ‘ مصدقہ نقول کی مطالبہ پر پاکستانی جواب کا انتظار

جادھو کیس ‘ مصدقہ نقول کی مطالبہ پر پاکستانی جواب کا انتظار

ہمیںاب تک کوئی جواب موصول نہیںہوا ہے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی وضاحت

نئی دہلی 16 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے آج کہا کہ اسے ابھی تک پاکستان سے اپنے اس مطالبہ پر کوئی جواب نہیں ملا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی بحریہ کے سبکدوش عہدیدار کلبھوشن جادھو کے خلاف چارچ شیٹ اور فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزارت خارجہ پاکستان سے کہا ہے کہ ہمیں جادھو کے خلاف چارچ شیٹ اور سنائے گئے فیصلے کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں لیکن ابھی تک پاکستان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے ۔ ہندوستان نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ جادھو کو سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریگا ۔ اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بمبا والے نے پاکستان کی معتمد خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے جمعہ کو اس کیس کے سلسلہ میں ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ چارچ شیٹ اور فیصلے کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں ۔ اس کے علاوہ جادھو سے ملاقات کا موقع بھی دیا جائے ۔ باگلے نے اس مسئلہ پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان نے جمعہ کے دن ہندوستانی ہائی کمشنر کی پاکستانی معتمد خارجہ سے ملاقات کے موقع پر ان دو دستاویزات کا مطالبہ کیا تھا ۔ 46 سالہ کلبھوشن جادھو کو سزائے موت سنائی گئی ہے اور اس سزا کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اعلان کے بعد پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے بھی منظوری دیدی ہے ۔ پاکستان نے کلبھوشن جادھو پر پاکستان میں جاسوسی اور سبوتاج کی سرگرمیوں میںملوث رہنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ پاکستان کا یہ ادعا ہے کہ اس کی سکیوریٹی فورسیس نے جادھو کو گذشتہ سال 3 مارچ کو صوبہ بلوچستان میں گرفتار کیا تھا جبکہ وہ ایران سے یہاں پہونچا تھا ۔ اس کا یہ بھی ادعا ہیکہ وہ ہندوستانی بحریہ کا برسر خدمت عہدیدار ہے ۔ پاکستانی فوج نے اس کی گرفتاری کے بعد جادھو کا ایک اقبالی بیان پر مشتمل ویڈیو بھی جاری کیا تھا ۔ تاہم ہندوستان ‘ پاکستان کے ادعا کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جادھو کو پاکستانی حکام نے اغوا کیا تھا ۔ وزیر خارجہ ہند سشما سوراج نے خبردار کیا تھا کہ جادھو کی سزا پر عمل کیا جاتا ہے تو ہندوستان اسے منصوبہ بند قتل سمجھے گا اور پاکستان کو اس کے عواقب کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو باہمی تعلقات پر اثر انداز ہونگے ۔

TOPPOPULARRECENT