Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / جادھو کے ارکان خاندان کے ساتھ نامناسب رویہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جادھو کے ارکان خاندان کے ساتھ نامناسب رویہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

واشنگٹن ۔ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی، افغانی اور بلوچی نژاد امریکی شہریوں نے آج یہاں پاکستانی سفارتخانے کے روبرو پاکستان میں سزائے موت پانے والے ہندوستانی کلبھوشن جادھو کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ نامناسب رویہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یاد رہیکہ کلبھوشن جادھو کی والدہ اور شریک حیات نے کچھ روز قبل پاکستان پہنچ کر ان سے ملاقات کی تھی۔ شدید سردی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے احتجاجی اپنے ساتھ ڈھیر ساری چپلیں بھی لائے تھے تاکہ اسے پاکستانی سفارتخانے کے عملہ کو دے سکیں۔ دریں اثناء امریکن فرینڈس آف بلوچستان کے بانی احمر مستنحان نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کے مقدمہ میں بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ مقدمہ ایک فوجی عدالت میں چلایا گیا۔ اس انوکھے احتجاجی مظاہرہ کو ’’چپل چور پاکستان‘‘ سے موسوم کیا گیا تھا۔ پاکستان کے دورہ کے وقت والدہ اور شریک حیات کو نہ صرف ان کی سینڈلس اتارنے کی ہدایت کی گئی بلکہ ان کا منگل سوتر اور پیشانی پر سجائی جانے والی بندی بھی اتار لی گئی تھی۔ بعدازاں جو سینڈلس اتروائی گئی تھیں ان کا سرقہ کرلیا گیا تھا۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے اور کتنا جھوٹ، اس کی توثیق نہیں ہوسکی۔ تاہم چپل کے سرقہ کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کا نام ’’چپل چور پاکستان‘‘ رکھا گیا۔ گذشتہ سال 25 ڈسمبر کو ہوئی یہ ملاقات کی تصاویر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وائرل ہوگئی تھی جہاں جادھو کو ایک شیشے کے اسکرین کے پیچھے بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا اور دوسری طرف ان کی والدہ اور شریک حیات موجود تھے۔ بعض گوشوں سے کہا جارہا ہیکہ ایسا ہی کرنا تھا توانہیں ہندوستان سے پاکستان بلانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ Skype کے ذریعہ یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھی بات چیت ہوسکتی تھی۔ شیشے کا اسکرین حائل ہونے کی وجہ سے وہ صرف ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے، چھو نہیں سکتے تھے۔ پاکستانی حکومت کے اس اقدام کو غیرانسانی اقدام سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT