Thursday , December 13 2018

جارحیت کے خلاف رد عمل کے بغیر اسرائیل سے جنگ بندی کی توقع فضول : انقلابی گلوکار غدر

حیدرآباد 25 جولائی (سیاست نیوز) اسرائیلی جارحیت کے خلاف ردعمل کے اظہار کے بغیر اسرائیل سے جنگ بندی کی توقع فضول ہے۔ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ معصوم جانوں کے تلف ہونے پر خاموش تماشائی نہ رہے بلکہ نریندر مودی حکومت اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ہندوستانی عوام کو اِس بات سے واقف کروائے کہ حکومت ہند ظالم کے ساتھ ہے یا مظلوم کے ساتھ۔ انقلابی گلوکار غدر نے آج خصوصی بات چیت کے دوران اِن خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت دراصل فلسطینی خطہ میں موجود تیل اور گیس پر قبضہ جمانے کی کوشش ہے اور اِس کوشش میں اب تک لاکھوں جانیں امریکہ لے چکا ہے۔ غدر میں عرب ممالک کی خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جب صحرائے عرب میں کچھ نہیں تھا اُس وقت تک کوئی عربوں کو پوچھتا نہیں تھا اور نہ ہی اِس خطہ کی معاشی اعتبار سے کوئی اہمیت کسی مملکت کے پاس تھی۔ لیکن جب خطہ میں تیل کی دولت کا دور شروع ہوا تو اِس کے ساتھ ہی امریکہ نے منظم انداز میں عربوں پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کردیا اور اِسی کنٹرول کا نتیجہ ہے کہ آج فلسطین میں خونریزی کے باوجود عرب ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ غدر نے بتایا کہ تیل کی عالمی بازار میں قیمت کا تعین ڈالر میں ہوتا ہے اور ڈالر کو مضبوط کرنے میں تیل کا انتہائی اہم کردار ہے۔ امریکہ درحقیقت تیل پر اپنے کنٹرول کے ذریعہ اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے اور ڈالر کا ساکھ کو متاثر ہونے سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اُنھوں نے اِس موقع پر عالم اسلام کے مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ماہ رمضان المبارک کے دوران غزہ میں جو تباہی اسرائیل و صیہونی طاقتوں نے مچائی ہے اُس کیلئے پرامن عالم اسلام و عالم انسانیت کو چاہئے کہ وہ کم از کم اِس کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کروائیں۔ غدر نے سیکولر، جمہوری اور انسانیت نواز ممالک کے سربراہان سے مطالبہ کیاکہ وہ اِس سنگین مسئلہ پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں آگے آئیں۔ انقلابی گلوکار نے بی جے پی کے نام نہاد سیکولرازم کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی واقعی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر یقین رکھتی ہے تو وزیراعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ مسئلہ فلسطین پر اپنا موقف واضح کریں اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو دنیا کے سامنے واضح کریں۔ اُنھوں نے بتایا کہ جو قومیں شہداء کی زندگیوں سے سبق حاصل نہیں کرتیں وہ اقوام بہت جلد مردہ ہوجاتی ہیں۔ اُنھوں نے فلسطینی شہداء سے درس حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے ملک، زمین اور تہذیب کی حفاظت کے لئے جان دینے والوں کی قدر کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT