Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / جاریہ انتخابات فرقہ پرستی اور یکجہتی میں انتخاب کا موقعہ

جاریہ انتخابات فرقہ پرستی اور یکجہتی میں انتخاب کا موقعہ

رائے بریلی 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پرینکا گاندھی نے آج نریندر مودی کو اقتدار کی ایک شخص کے ہاتھوں میں مرکوزیت کے خلاف انتباہ دیا۔ ایک دن قبل مسلسل سیاسی حملوں کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کے شوہر رابرٹ وڈرا پر حملے افسوسناک ہیں۔ تاہم آج اُنھوں نے کہاکہ انتخابی مہم کے دوران شخصی معاملات سے گریز کیا جا

رائے بریلی 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پرینکا گاندھی نے آج نریندر مودی کو اقتدار کی ایک شخص کے ہاتھوں میں مرکوزیت کے خلاف انتباہ دیا۔ ایک دن قبل مسلسل سیاسی حملوں کے بارے میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ اُن کے شوہر رابرٹ وڈرا پر حملے افسوسناک ہیں۔ تاہم آج اُنھوں نے کہاکہ انتخابی مہم کے دوران شخصی معاملات سے گریز کیا جانا چاہئے۔ انتخابی مہم کا مرکزی موضوع عوام کو متاثر کرنے والے حقیقی مسائل ہونے چاہئیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر یک شخص کے ہاتھ میں اقتدار مرکوز ہوجائے تو یہ بہتر ہوگا یا عوام کا بااختیار ہونا۔ اپنی والدہ سونیا گاندھی کے انتخابی حلقہ میں مہم چلاتے ہوئے اُنھوں نے شخصی حملوں کے تذکرہ کا مسئلہ بھی اُٹھایا اور کہاکہ آج کل آپ ٹی وی پر کئی چیزوں پر تبادلہ خیال سن سکتے ہیں۔ شخصی حملے بھی کئے جارہے ہیں لیکن یہ سیاست نہیں ہے۔ ایسا عوام کو گمراہ کرنے کیا جارہا ہے۔ مباحث حقیقی مسائل پر ہونے چاہئیں۔ عوام کے کیا مسائل ہیں اُن پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ یہ پارٹی نفرت پھیلاتی ہے جبکہ کانگریس ترقی کا تیقن دیتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ انتخابات اتحاد اور ہندوستان کی شناخت کے استحکام کے لئے ہیں۔ آپ جب ووٹ دینے جائیں تو ضرور سوچیں کہ آپ کس قسم کی سیاست چاہتے ہیں، انتشاری جو فرقہ پرستی پھیلاتی ہے یا جو سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ انچھاہار اسمبلی حلقہ میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہاکہ حق معلومات قانون نافذ کرتے ہوئے کانگریس نے کرپشن کے خاتمہ کا راستہ دکھادیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں کرپشن کے خاتمہ کی بات تو کرتی ہیں لیکن اُنھیں یہ بھی ظاہر کرنا چاہئے کہ یہ کام کیسے کیا جائے گا۔ لوگ انتخابی مہم چلانے کے لئے ربط پیدا کرتے ہیں۔ اُن سے پوچھا جانا چاہئے کہ وہ ترقی کے لئے کیا کررہے تھے۔ آپ کے لئے اُنھوں نے کیا کیا ہے۔

وہ آتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہتے کہ وہ آپ کے لئے کیا کریں گے؟ خاتون رائے دہندوں کے ساتھ ربط پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے اُن سے کہاکہ اُن کے بھائی راہول گاندھی نے اِس علاقہ میں خواتین کے لئے سیلف ہیلپ گروپس قائم کئے ہیں۔ اِس پروگرام کا آغاز راہول جی نے امیتھی سے کیا تھا جبکہ وہ 2004 ء میں رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ اِس کی توسیع کی تجویز پیش کی گئی چنانچہ اسے رائے بریلی تک توسیع دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں کافی ترقی دیکھی گئی۔ آپ کو اپنے حقوق کا احساس ہوا۔ دیہاتوں میں اُنھوں نے دیکھا کہ عوام کا نقطہ نظر تبدیل ہوچکا ہے۔ خواتین کے بارے میں رویہ کافی تبدیل ہوگیا ہے۔ کئی پروگرام ہیں، اِن کا کانگریس نے آغاز کیا ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ اختیارات عوام کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ خواتین کی اپنی ایک شناخت ہے۔ وہ صرف بیٹیاں، بہنیں، بیویاں اور مائیں نہیں ہیں، اُن کی ایک انفرادی شناخت بھی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خواتین کی انفرادی شناخت کا بھی احترام کیا جانا چاہئے اور اُنھیں معاشرے میں مساویانہ درجہ حاصل ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT