جاریہ سال خانگی اسکول فیس میں اضافہ نہیں کیا جائے گا

داخلوں کی تکمیل کے بعد حکومت سے احکام کی اجرائی ، حکومت تلنگانہ کا فیصلہ
حیدرآباد۔5جنوری(سیاست نیوز) خانگی اسکولوں میں جاریہ سال کے داخلوں کے دوران فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور داخلوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں احکام جاری کئے جائیں گے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں احکام جاری کرتے ہوئے خانگی اسکولوں کے داخلوں پر عائد پابندی کو برخواست کرتے ہوئے داخلہ سال گذشتہ کی فیس کے اعتبار سے حاصل کرنے کی تاکید کی ہے اور کہا ہے کہ فیس میں اضافہ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تروپتی راؤ کمیٹی کا جائزہ لینے کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی خانگی اسکول یا تعلیمی ادارہ کی فیس میں اضافہ کی اجازت نہیں رہے گی۔ حکومت تلنگانہ نے گذشتہ سال تروپتی راؤ کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ خانگی تعلیمی اداروں کی فیس میں من مانی اضافہ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور کمیٹی نے ڈسمبر2017کے اواخر میں اپنی رپورٹ پیش کر دی لیکن اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ رپورٹ کا جائزہ لینے اور اس کے نکات پر مشاور ت کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جا سکتا ہے اسی لئے حکومت نے اسکولوں میں کئے جانے والے داخلوں پر عائد پابندی کو برخواست کردیا ہے۔ حکومت نے خانگی اسکولو ںمیں تعلیمی سال 2018-19 کے داخلوں کو مکمل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے فیس میں اضافہ کے فیصلہ کو زیر التواء رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس تعلیمی سال کے دوران سال گذشتہ کی فیس پر داخلے فراہم کئے جائیں اور حکومت تروپتی راؤ کمیٹی کی سفارشات پر مذاکرات اور مشاورت کے بعد فیس میں اضافہ کے سلسلہ میں احکام کی اجرائی عمل میں لائے گی۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کا اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد اب تعلیمی سال 2018-19 کے دوران خانگی اسکول انتظامیہ فیس میں اضافہ نہیں کرسکتے۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ ان سرکاری احکامات کے خلاف ریاست کے خانگی اسکولوں اور کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی جانب سے حکومت تلنگانہ کے ان احکامات کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے کیونکہ تعلیمی اداروں کا ماننا ہے کہ سالانہ فیس میں اضافہ کیاجانا ان کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر تعلیمی اداروں کو چلایا جانا ممکن نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT