Tuesday , September 18 2018
Home / Top Stories / جاریہ سال سونے کی قیمت میں10 تا 12 فیصد اضافہ ممکن

جاریہ سال سونے کی قیمت میں10 تا 12 فیصد اضافہ ممکن

قیمت میں فی تولہ 30 ہزار سے متجاوز ہوسکتی ہے ۔ قیمتوں میں استحکام کا بھی امکان
حیدرآباد۔15 جنوری(سیاست نیوز) سونے کی قیمتو ںمیں جاریہ سال کے دوران 10تا 12فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور قیمتیں محتاط رہنے کے امکانات کافی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ سال 2017کے دوران سونے کی قیمتو ںمیں گراوٹ کے سبب سونے کو بہترین اثاثہ تصور کرنے والوں نے سونے کی خریدی کے ذریعہ اپنے اثاثوں کو بنانا بند کردیا تھا اور سونے میں سرمایہ کاری کرنے میں احتیاط سے کام لیا جانے لگا تھا ۔ عالمی صرافہ بازار میں تبدیلیوں کے سبب سرمایہ کار سونے کی سمت راغب نہیں ہو رہے تھے لیکن سال 2018کی ابتداء کے ساتھ ہی سونے کی قیمت میں بہتری پیدا ہونے لگی اور اس کو دیکھتے ہوئے سونے میں سرمایہ کاری و نقد کو سونے میں تبدیل کرنے میں عوامی دلچسپی میں اضافہ ہوتا جا رہاہے۔ صرافہ بازار کے سرکردہ تاجرین کا کہناہے کہ عالمی صرافہ بازار میں ڈالر کی قیمت میں آنے والی تبدیلیوں کے سبب سرمایہ کار طبقہ سونے کی خریدی میں دلچسپی لے سکتا ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ جاریہ سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا جائیگا ۔ تاجرین کا کہناہے کہ جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے اثرات بھی سونے کی قیمتوں پر مرتب ہوسکتے ہیںاورڈالر کی قیمتوں کا بھی اثر سونے کی قیمت پر ہوگا۔ 2017کی ابتدا میں سونے کی قیمت 27ہزار 570 فی تولہ سے شروع ہوئی تھی لیکن تبدیلیوں کے بعد سب سے زیادہ اضافہ 31ہزار 350فی تولہ دیکھا گیا ۔ اس کے بعد دوبارہ سونے کی قیمتو ں میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی اور یہ 28ہزار 300 روپئے فی تولہ تک پہنچ چکی تھی اس دوران 730کروڑ روپئے کا سرمایہ 14 صرافہ ایکسچینج سے منہاکیا گیا تھا۔ بتایاجاتاہے کہ سال 2018 کے دوران صرافہ بازار میں سونے کی قیمت 30ہزار 500روپئے فی تولہ ریکارڈ کئے جانے کی توقع ہے۔ جاریہ سال کے دوران سونے میں سرمایہ کاری کے متعلق تجارتی برادری کا کہناہے کہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی خریدی بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ قیمتوں میں تبدیلی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ سیاسی حالات اور جغرافیائی تبدیلیوں کے سبب جو صورتحال پیدا ہوگی یا ڈالر کی قیمتیں مستحکم نہیں رہتی ہیں تو ایسی صورت میں سونے کی قیمت میں کمی یا زیادتی ریکارڈ کی جاسکتی ہے ۔ اسکے باوجود بھی 10 تا 12 فیصد سے زیادہ کمی یا زیادتی ریکارڈ کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT