Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ؟

جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات ؟

پہلے 25 ارکان کی حالت خراب تھی تازہ سروے میں مزید 20 کی حالت ابتر

ٹی آر ایس اور حلیف دونوں مصروف ہوگئے
ایک انار ایک سو بیمار کی کیفیت سے نقصان

حیدرآباد ۔ 6 جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے حلقوں میں انتخابی بخار چڑھ گیا ہے۔ سابق میں ایک سروے کروایا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے 25 ارکان اسمبلی کے حلقوں میں سب کچھ ٹھیک نہیں تھا، اب ایک تازہ سروے میں مزید 20 ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ 2014ء میں تلنگانہ کی لہر سے بھرپور فائدہ اٹھانے والے چیف منسٹر کے سی آر 2019کے انتخابات میں ترقی اور بہبود کے نام پر دوسری میعاد کیلئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابی منشور میں کئے گئے چند اہم وعدوں کو پورا نہ کرنے کے باوجود منشور میں شامل نہ رہنے والے مشن بھاگیرتا اور زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی فراہم کرتے ہوئے عوام کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ عوام حکومت کی فلاحی، ترقیاتی و تعمیری اسکیمات سے مطمئن ہیں مگر پارٹی ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ پہلے تین مرحلوں کے سروے میں دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ارکان اسمبلی پر عوامی ناراضگی اور برہمی دیکھی گئی ہے۔ ان حلقوں میں ٹی آر ایس ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے قائدین ابھی تک انہیں قبول نہیں کرپائے۔ پارٹی قائدین میں تال میل اور رابطہ کا فقدان دیکھا گیا ہے۔

تازہ سروے میں مزید 20 ارکان اسمبلی عوامی اعتماد سے محروم ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت پسماندہ طبقات کیلئے مختص محفوظ حلقوں کے ارکان اسمبلی کی بتائی گئی ہے۔ رپورٹ ملتے ہی چیف منسٹر کے سی آر نے ان 20 اسمبلی حلقوں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اضلاع کے متعلقہ وزراء کو ان محفوظ حلقوں میں عوامی رابطہ بڑھانے ترقیاتی و تعمیری زیرالتواء کاموں میں تیزی پیدا کرنے حکومت کے فلاحی اسکیمات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرتے ہوئے عوام میں شعور بیدار کرنے کا مشورہ دیا۔ سروے میں اس بات کا بھی پتہ چلا ہیکہ ایک اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کے 5 دعویدار ہیں اور تمام دعویدار اپنا اپنا علحدہ گروپ تیار کرتے ہوئے عوام میں اپنی امیج بڑھانے کیلئے شخصی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں جس سے ٹی آر ایس کا کیڈر منتشر نظر آرہا ہے۔ ٹی آر ایس میں پارٹی کے حقیقی قائدین کی بجائے دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کو اہمیت دی جارہی ہے۔ انہیں تنظیمی و سرکاری عہدے دیئے جارہے ہیں جس سے پارٹی قائدین میں قیادت کے خلاف مایوسی اور ناراضگی دونوں پائی جاتی ہیں۔ ابتدا سے آخر تک ٹی آر ایس کے دروازے تمام قائدین کیلئے کھول دیئے جانے پر موجودہ ارکان اسمبلی میں بھی غیریقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر آئندہ انتخابات میں پارٹی کی دوبارہ کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔ ریاستی سطح کے اجلاس اور اضلاع قائدین کے علحدہ اجلاس میں پارٹی قائدین کو یہ بات بتارہے ہیں مگر زمینی سطح پر حالت اتنے سازگارنہیں ہیں، جس طرح چیف منسٹر قائدین کو بتارہے ہیں ، باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر لمحہ آخر میں پارٹی امیدواروں کو بھی بڑے پیمانے پر تبدیل کرسکتے ہیں جن ارکان اسمبلی سے عوام ناخوش ہیں انہیں بھی ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے چہروں کو ٹکٹ دیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT