Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / جاریہ سروے میں وقف کی 77,000 ایکر اراضی کو خطرہ لاحق

جاریہ سروے میں وقف کی 77,000 ایکر اراضی کو خطرہ لاحق

صرف 10,000 ایکر کا تذکرہ، اراضی سروے پر وقف بورڈ خوابِ غفلت کا شکار
حیدرآباد ۔ 19۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ریاست میں جاریہ اراضی سروے میں 77,000 ایکر سے زائد اوقافی اراضی کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق صرف 10,000 ایکر اراضی کو وقف کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی ہے اور وقف بورڈ کے پاس ٹھوس دستاویزات موجود نہیں، جن کے ذریعہ اراضی کا تحفظ ہوسکے۔ حکومت نے ریاست بھر میں زرعی اراضی کی نشاندہی کیلئے گزشتہ ہفتہ وسیع تر سروے کا آغاز کیا ۔ یہ سروے 15 ڈسمبر تک جاری رہے گا لیکن تلنگانہ وقف بورڈ اپنی زرعی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں خواب غفلت کا شکار ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقف بورڈ کو اپنے ریکارڈ کے مطابق موجود 77,731 ایکر زرعی اراضی کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ریونیو سروے کے عہدیداروں کے مطابق ریاست میں اوقافی زرعی اراضی صرف 10,000 ایکر ہے۔ اس طرح 60,000 سے زائد ایکر زرعی اوقافی اراضی کے بارے میں وقف بورڈ کی دعویداری کو ریونیو حکام قبول کرنے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں موجود 10,000 ایکر اراضی کو وقف ثابت کرنے کیلئے وقف بورڈ میں مناسب ریکارڈ موجود نہیں۔ نامکمل دستاویزات کے ذریعہ اراضی کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح ریونیو ریکارڈ میں موجود 10,000 ایکر اراضی بھی خطرہ میں دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں جس اراضی کا تذکرہ شامل ہے، اس میں بھی زیادہ تر اراضی وقف بورڈ کے قبضہ میں موجود نہیں اور ناجائز قابضین ان پر اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں۔ وقف سروے کے ماہرین نے اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں بورڈ کی عدم دلچسپی پر حیرت کا اظہار کیا۔ جاریہ اراضی سروے میں ریونیو، انڈومنٹ ، وقف ، بودھان اور دیگر زمرہ جات کی اراضیات کی نشاندہی کی جائے گی اور متعلقہ اداروںکو اپنی اراضی کے بارے میں دعویداری پیش کرنی ہوگی۔ یہ دعویداری منڈل کی سطح پر پیش کی جانی ہے لیکن وقف بورڈ نے ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ سروے کے سلسلہ میں جو رہنمایانہ خطوط طئے کئے گئے ان کے مطابق منڈل کی سطح پر وقف بورڈ کو اپنی اراضیات کی تفصیلات ریکارڈ کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ تحصیلدار اپنے سروے میں دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کریں گے ۔ اگر ان کا فیصلہ وقف کے خلاف آتاہے تو آر ڈی او یا جوائنٹ کلکٹر کے پاس اپیل کی جاسکتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ نے ابھی تک 31 اضلاع کا ریکارڈ علحدہ طور پر تیار نہیں کیا ہے ۔ پرانے اضلاع کے اعتبار سے ضلع کلکٹرس کو تفصیلات روانہ کی گئیں۔ سابق عادل آباد ضلع میں تین نئے اضلاع کی تشکیل عمل میں آئی ہے لیکن وقف بورڈ نے نئے اضلاع کے اعتبار سے ریکارڈ کو تیار نہیں کیا۔ کوئی بھی ضلع کلکٹر تین اضلاع کے ریکارڈ سے اپنے ضلع کی تفصیلات کو علحدہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ منڈل کی سطح پر ریکارڈ کو علحدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ (سلسلہ صفحہ 8پر)

TOPPOPULARRECENT