جاسوسی کے الزام میں سزاء پانے والے برطانوی شہری کو معافی

ابوظہبی ۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) متحدہ عرب امارات نے برطانوی ماہر تعلیم میتھیوہیجیز کو جاسوسی میں ملوث پائے جانے کے بعد دی گئی سزائے عمر قید کے کچھ ہی دنوں بعد معافی دیدی حالانکہ جاسوسی کے الزام میں انہیں سزاء سنائے جانے پر نہ صرف ان کے ارکان خاندان بلکہ برطانوی حکومت بھی حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ اب اچانک اس تبدیلی نے انہیں مزید حیرت زدہ کردیا ہے۔ برطانوی حکومت کے علاوہ ہیجیز کی اہلیہ نے بھی اس موقع پر برطانیہ کے حلیف ملک یو اے ای کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یاد رہیکہ ہیجیز ان 700 قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں آئندہ ماہ منائے جانے والے قومی دن کے موقع پر صدر یو اے ای شیخ خلیفہ بن زیدالنہیان نے عام معافی دی ہے۔ دریں اثناء سرکاری میڈیا کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ضابطہ کی تکمیل کے بعد مسٹر ہیجیز کو یو اے ای سے برطانیہ جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔ یاد رہیکہ ایک نیوز کانفرنس میں یو اے ای کو ایک ایسا ویڈیو فوٹیج دکھایا گیا تھا جہاں ہیجیز کو یہ اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ وہ MI6 فارین انٹلیجنس ایجنٹ ہے۔ اس موقع پر برطانوی معتمد خارجہ جیریمی ہنٹ نے یو اے ای سے اظہارتشکر کیا ہے جسے برطانیہ اپنا مشرق وسطیٰ کا حلیف ملک تصور کرتا ہے اور جسے برطانوی ہتھیار بھی سربراہ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیجیز پر عائد کئے گئے الزامات سے حالانکہ ہم متفق نہیں تھے لیکن اس کے باوجود بھی اس معاملہ کی عاجلانہ یکسوئی پر ہم حکومت یو اے ای کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT