Wednesday , June 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / جامعہ عثمانیہ کی اراضی پر تعمیر امکنہ کا منصوبہ شرمناک

جامعہ عثمانیہ کی اراضی پر تعمیر امکنہ کا منصوبہ شرمناک

سدی پیٹ ۔25 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹی این ایس ایف قومی کمیٹی کے رکن ٹی رمیش نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندراشیکھر راؤکو اس بات انتبادہ کہ اگر وہ جامعہ عثمانیہ کی اراضی حاصل کریں گے تو ان کا سیاسی میدان میں نام و نشان باقی نہیں رہے گا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی حاصل کرنے سے متعلق چیف منسٹر کے اعلان کے خلاف میدک روڈ پر واقع مجسمہ ت

سدی پیٹ ۔25 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹی این ایس ایف قومی کمیٹی کے رکن ٹی رمیش نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندراشیکھر راؤکو اس بات انتبادہ کہ اگر وہ جامعہ عثمانیہ کی اراضی حاصل کریں گے تو ان کا سیاسی میدان میں نام و نشان باقی نہیں رہے گا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی حاصل کرنے سے متعلق چیف منسٹر کے اعلان کے خلاف میدک روڈ پر واقع مجسمہ تلنگانہ تلی پہونچے اور اور اپنے آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر مجسمہ کو یادداشت پیش کیا جس میں چیف منسٹر سے خواہش کی گئی کہ وہ فوری طورپر مجوزہ منصوبہ سے دستبردار ہوجائیں ۔ٹی این ایس ایف کے سینکڑوں قائدین و کارکن اس موقع پر مجسمہ کے قریب جمع ہوگئے اور پرزور احتجاج کرنے لگے ۔ اس موقع پر ٹی رمیش نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی حاصل کرتے ہوئے اس اراضی پر غریبوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے اعلان کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ ایک ایسا مقام جہاں علم حاصل کرنے کے لیے تمام تر سہولتیں فراہم ہیں اور کروڑ ہا نوجوانوں نے یہاں سے علم حاصل کرکے آج نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے رہے ہیں ایسے مقام کی حاصل کرنے کا اعلان انتہائی معیوب بات ہے ۔ انھوں نے کے سی آر کے اعلان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہوئے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کو نظام سرکار میر عثمان علی خاں نے حصول علم کے لیے قائم کیا تھا یہ یونیورسٹی تاریخی ہے اس میں مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ نوجوان اپنا تابناک مستقبل بنا سکیں ۔ٹی رمیش نے مزید کہا کہ علاحدہ ریاست تلنگانہ کے لیے عثمانیہ یونیورسٹی کے کئی طلبہ نے اپنی قیمتیں جانوں کی قربانی دیں اوردوران تحریک آگے آگے رہے ۔ ہر مشکل مرحلہ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

ایسے میں طلبہ کی دل شکنی نہیں ہونی چاہئے ۔بلکہ ان کے حوصلوں کوبڑھاوادینا چاہئے۔ انھوں نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ وہ ماضی میں عثمانیہ یونیورسٹی کی تحریکیںیاد کریں ۔ انھوں نے آگے چل کر مزید کہا کہ اگر چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندراشیکھرراؤ عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی کو حاصل کرنے کی ضد پر قائم رہتے ہوئے اراضی حا صل کریں گے تو یہ سمجھ لیں کہ وہ چیف منسٹر کی کرسی سے محروم ہوجائیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ سے انتقام یا پھر دشمنی کرنے والی کوئی حکومت برقرار رہی اور نہ رہے گی ۔علاحدہ تلنگانہ کے بعد کے سی آر چیف منسٹر بننے کے ساتھ ہی عوام کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ مسرس بھارت یادو‘ پرسنا کمار ‘ ستیش ‘ مہیش ‘ راج شیکھر ‘ سریناتھ ‘ چندو‘ سندیپ ‘ روی ‘شیکھر ‘ سینو ‘ پردیپ‘ چنٹو‘ گنیش ‘ سرینواس اور دیگربھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT