Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی

لگاکے آگ پڑوسی کے گھر نہ اِترانا
دُعائیں مانگنا اَے دوست اپنے گھر کے لئے
جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی
ملک کے عوام پر جب کوتاہ ذہن، تنگ نظر قیادت مسلط ہوتی ہے تو بحران اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں پر بدنگاہی رکھنے والی سیاسی قوت نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم کی خودکشی واقعہ کو سلگتا چھوڑ کر اب اقلیتی شناخت والی ملک کی دیگر یونیورسٹیوں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ چھیڑ چھار کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ زندہ معاشروں اور انسانی بستیوں میں اپنی من مانی چلانے کی کوشش کا مطلب ہندوستان کی عظیم روایت کو المیہ سے دوچار کرنا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زعفرانی پارٹی اور فرقہ پرستوں کے سیاسی عزائم کو جس وقت تقویت مل رہی تھی ملک کے امن پسند سیکولر عوام کے ذہنوں میں کئی اندیشے پیدا ہوگئے تھے انہی اندیشوں کے مطابق فرقہ پرستی کے علمبردار اپنی مذموم کارروائیوں میں سرگرم ہیں۔ تعصب اور نفرت کے بطن سے پیدا ہونے والے مسائل پہاڑ جیسے دیوقامت ہوتے ہیں اور یہ مسائل ہندوستانی عوام کی زندگیوں کے لئے بار گراں ہوں گے۔ حکومتیں تو آئیں گی اور جائیں گی لیکن جن حکومتوں اور حکمرانوں نے غلطیاں کی ہیں اس کا خمیازہ تو ہندوستانی عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ ایسی ہی ایک سازشی پالیسی کے تحت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور ادارہ جامعہ ملیہ کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ حکومت کے منصوبے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہونے چاہئے۔ مگر مرکز میں جب سے این ڈی اے حکومت برسر اقتدار آئی ہے نت نئے اور پیچیدہ مسائل پیدا کئے جارہے ہیں۔ حکومت کی پالیسی کو مسترد کرنے والی اپوزیشن پارٹیوں کے موجود ہونے کے باوجود جب حکمراں پارٹی اپنی درپردہ پالیسی پر گامزن رہنے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمراں پارٹی کے نزدیک ملک کی جمہوریت اور دستور کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے بشمول تمام اپوزیشن پارٹیوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے کے خلاف اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت کے اس منصوبہ کو ’’ناپاک ایجنڈہ‘‘ قرار دیا جس کو عوام پر مسلط کرنے کے لئے خفیہ طور پر کام ہورہا ہے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے اس مسئلہ پر متنازعہ موقف ظاہر کیا تھا جس کے بعد ہی اپوزیشن پارٹیوں نے احتجاج شروع کیا ہے۔ مسلم تنظیموں نے بھی ان دو یونیورسٹیوں کے اقلیتی موقف کو برخاست کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ این ڈی اے حکومت دراصل یہ مسئلہ مغربی بنگال اور اترپردیش کے آنے والے اسمبلی انتخابات میں اپنے سیاسی موقف کو مضبوط بنانے کیلئے اٹھایا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ اٹارنی جنرل نے جمہوری ہند کے اعلیٰ ادارہ کو کمزور بنانے کی کوشش کی اور حکومت سے کہاکہ دہلی کا جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے کیوں کہ اس کا قیام پارلیمانی قانون کے ذریعہ عمل میں لایا گیا ہے۔ چند دن قبل انھوں نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ لیجسلیچر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ ہے۔ اٹارنی جنرل کے بیان سے حکومت کی نیت آشکار ہوتی ہے۔ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک عظیم روایت رہی ہے اب اس تہذیب کو فرقہ پرستوں سے اپنی ٹھوکر میں رکھنے کی سازش رچائی ہے تو ملک کے سیکولر عوام کو شدید احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اگرچیکہ اس مسئلہ پر آواز اُٹھائی مگر اس کے ساتھ عوام کو بھی اپنے قومی اتحاد اور سیکولر مزاج کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمراں طبقہ کے ارکان نے ہندوستان کی شاندار تاریخ کا تنگ نظری سے مطالعہ کیا ہے اس لئے ان کے ذہنوں میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا پس منظر نہیں ہے۔ دستور ہند کے آرٹیکل 30(1) نے تمام مذاہب اور لسانی اقلیتوں کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بشمول تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انھیں چلانے کا حق اور اجازت دی گئی ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ اقلیتیں پورے وقار کے ساتھ اپنے منفرد اور خصوصی تعلیمی اُمور کو مکمل کرسکیں۔ ماضی کے ممتاز قائدین جیسے ایم اے انصاری، ڈاکٹر ذاکر حسین نے علیگڑھ سے دہلی پہونچ کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپ قائم کیا اور اس ادارہ کی بنیاد دراصل علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے خطوط پر ہی رکھی گئی تھی۔ مہاتما گاندھی نے بھی اس طرح کی یونیورسٹی کی حوصلہ افزائی کی تھی تاکہ قوم پرستانہ اقدار اور نظریات کو فروغ دیا جاسکے لیکن آج کی فرقہ پرست قیادت اس کو اپنی کوتاہ ذہنی اور تنگ نظری کے ذریعہ نقصان پہونچا رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے بلکہ تمام کو متحد ہوکر ناپاک ایجنڈہ کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔
عالمی معاشی فورم اور ہندوستان کا موقف
عالمی معاشی غیر یقینی کی کیفیت میں بتدریج کمی آنے کا روشن اشارہ ڈاؤس میں منعقدہ عالمی معاشی فورم کانفرنس میں شریک ترقی یافتہ ملکوں نے دیا ہے۔ اس گروپ میں ہندوستان کا موقف بھی قابل ستائش بتایا گیا۔ عالمی معاشی کانفرنس کے شرکاء نے ہندوستان کی معاشی ترقی کو ایک روشن منزل قرار دیا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کو تمام تر سہولتیں فراہم کرنے اور عصری ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عالمی اختراعی اقدامات پر بھی توجہ دی گئی مگر ہندوستان کی معاشی ترقی کے پس منظر میں یہاں کے ہزاروں خاندانوں کی غربت زدہ زندگی کی تصویر کو دھندلا ہی رکھا گیا۔ ہندوستانی حکومتوں نے ہمیشہ معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے کئے ہیں اور عالمی سطح پر ہندوستان کے معاشی موقف کو مضبوط بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی فورم یا عالمی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی معاشی صورتحال کو نمایاں کرنے کے ساتھ اگر حکومت ہند اندرون ملک معاشی تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ دنیا بھر میں ملک کی نیک نامی میں زبردست اضافہ ہوگا۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بھی عالمی معاشی فورم میں امید افزاء بیان دیا تھا کہ عالمی مارکٹ میں ہندوستان کی پیداواری صلاحیت پہلے سے زیادہ بہتر ہوتی ہے جبکہ چین میں معاشی پیداوار کی رفتار سست روی کا شکار ہورہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابل گھٹ رہی ہے یہ تشویشناک بات ہے لہذا حکومت ہند اور ماہرین معاشیات کو عالمی فورم کی خوش فہمیوں میں مبتلا رہنے کے بجائے بنیادی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستانی معاشی ترقی اور افراط زر کی رفتار کا موازنہ کرتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئے۔ ہندوستان کو ڈیجیٹل سے آراستہ سماج میں تبدیل کرنے اور عالمی معیشت کا مرکز بنانے کا عزم قابل ستائش ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے عام شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ غذائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT