Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / جامعہ نظامیہ کے اَسناد کو عثمانیہ یونیورسٹی کے مماثل قرار دینا اہم کارنامہ

جامعہ نظامیہ کے اَسناد کو عثمانیہ یونیورسٹی کے مماثل قرار دینا اہم کارنامہ

کے سی آر کے فیصلے سے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل روشن ، مولانا اکبر نظام الدین کا ردعمل
حیدرآباد۔24ستمبر (سیاست نیوز) امیر جامعہ حضرت مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ خاموش ؒ نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے جامعہ نظامیہ کے اسنادات کو عثمانیہ یونیورسٹی کے اسنادات کے مماثل قرار دیئے جانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ جناب کے چندر شیکھر راؤ نے ارباب جامعہ و مسلمانان دکن سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کے روشن تعلیمی مستقبل کی راہیں ہموارکئے ہیں۔ مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ کے اسنادات شہادت مولوی‘ شہادت عالم‘ شہادت فاضل اور شہادت کامل کو عثمانیہ انٹرنس‘ پی ڈی سی ‘ بی ۔اے اور ایم ۔اے کے مماثل قرار دیا جانا دینی علوم حاصل کرنے والے علماء و فارغین کو اعلی تعلیم کے حصول کا زریں موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ امیر جامعہ نے ریاستی حکومت اور عثمانیہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کو جامعہ اور مسلم نوجوانوں کے حق میں بہترین اور فائدہ مند فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ نظامیہ کے فارغین کو فراغت علوم کے بعد دیگر جامعات میں داخلوں کے حصول میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں اب وہ ختم ہو چکی ہیں۔ جامعہ عثمانیہ نے 21ستمبر کو جاری کردہ اعلامیہ میں اس بات سے ارباب جامعہ نظامیہ کو واقف کروایا کہ جامعہ عثمانیہ کے 28اور 29اگسٹ کو منعقد ہوئے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں جامعہ نظامیہ کی جانب سے 21جنوری 2017کو روانہ کردہ مکتوب کے رلاوہ تلنگانہ ریاستی کونسل برائے اعلی تعلیمات کی جانب سے موصولہ مکتوبات کا جائزہ لینے کے بعد جامعہ عثمانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہجامعہ نظامیہ کے کورس شہادت مولوی کو عثمانیہ انٹرنس ‘ شہادت مولوی کورس کو پی ڈی سی‘ شہادت فاضل کو جامعہ عثمانیہ کے بی ۔ اے اور شہادت کامل کو جامعہ عثمانیہ کے ایم ۔اے کے مماثل قرار دیا جائے۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ جامعہ نظامیہ نے جامعہ عثمانیہ کے چانسلر‘ وائس چانسلر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس زریں موقع سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے دینی و دنیاوی دونوں علوم کے حصول کی سمت رغبت اختیار کریں تاکہ انہیں دونوں جہاں میں سرخروی حاصل ہو سکے۔

TOPPOPULARRECENT