Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / جامع مسجد مدہول میں مردار خنزیر پھینکنے کا واقعہ مسلمانوں کے احتجاجی بند سے حالات کشیدہ ، پولیس نے اشرار کو گرفتار کرلیا

جامع مسجد مدہول میں مردار خنزیر پھینکنے کا واقعہ مسلمانوں کے احتجاجی بند سے حالات کشیدہ ، پولیس نے اشرار کو گرفتار کرلیا

مدہول ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : مدہول میں چند شرپسند عناصر نے شہر کے حالات کو مکدر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جامع مسجد مدہول میں ایک خنزیر کو مار کر پھینک دیا ۔ فجر کی نماز میں موذن اور مصلیان مسجد وضو گاہ پر خنزیر کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے ۔ اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی ۔ مسٹر رویندر سی آئی مدہول نے جامع مسجد پہنچ کر خنزیر کو باہر پ

مدہول ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : مدہول میں چند شرپسند عناصر نے شہر کے حالات کو مکدر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جامع مسجد مدہول میں ایک خنزیر کو مار کر پھینک دیا ۔ فجر کی نماز میں موذن اور مصلیان مسجد وضو گاہ پر خنزیر کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے ۔ اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی ۔ مسٹر رویندر سی آئی مدہول نے جامع مسجد پہنچ کر خنزیر کو باہر پھینکنے کی کوشش کی لیکن نوجوانوں نے کانسٹبل کا ہاتھ پکڑ لیا اور مطالبہ کیا کہ ڈاگ اسکواڈ کو طلب کرتے ہوئے حقائق کا پتہ چلاتے ہوئے خاطیوں کو منظر عام پر لایا جائے ، اس وقت دیکھتے ہی دیکھتے اس بات کی اطلاع شہر مدہول اور اس کے اطراف واکناف کے علاقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، جائے مقام پر سینکڑوں نوجوان و ضعیف افراد جمع ہوگئے ۔ احتجاج کرتے ہوئے خاطیوں کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ مسٹر آرگر دھر ڈی ایس پی بھینسہ بھی جامع مسجد پہنچ گئے اور اعلیٰ عہدیداروں کو اس کی اطلاع دی اور ڈاگ اسکواڈ کو طلب کیا ۔

حالات کو دیکھتے ہوئے بٹالین QRT ٹیم نظام آباد ، عادل آباد کو طلب کرلیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد شہر مدہول کے تمام تجارتی ادارے مکمل طور پر بند کردئیے گئے جس کی وجہ سے چاروں جانب سناٹا چھاگیا ۔ مدہول کے تمام مسلمان یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تفریق جمع ہوگئے ۔ جناب غوث محی الدین امیر مقامی جماعت اسلامی ہند مدہول ، جناب افروز خاں کانگریس پارٹی صدر منڈل مدہول ، جناب اعجاز الدین سابقہ صدر نشین منڈل پریشد مدہول ، اعجاز احمد خاں سابقہ نائب صدر نشین بلدیہ بھینسہ ، فیض اللہ خاں بھینسہ ، جناب وسیع الدین خالد پٹیل ، جناب صادق احمد امیر تبلیغ جماعت ، ایم اے عزیز و دیگر سماجی ، سیاسی اور نوجوانان مدہول کی کثیر تعداد میں موجود تھے ۔ ڈی ایس پی نے بتلایا کہ اکثریتی طبقہ کے 6 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ۔ مسلمانوں نے ڈی ایس پی بھینسہ کو مدہول کے تمام حالات سے واقف کرواتے ہوئے شہر کے حالات کو کس طرح مکدر کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اس سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ مدہول سرپنچ کے انتخابات سے مسلسل مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ لیکن مقامی مسلمانوں نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے یہاں کے حالات قابو میں رہے واضح رہے کہ حال ہی میں شرپسند عناصر نے مسلم قبرستان کی باونڈری وال کی تعمیر پر حالات کو بگاڑتے ہوئے مسلمانوں کو اکسانے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے امن کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس کا تعاون کیا اور اس مسئلہ کو تحصیلدار مدہول کے پاس حل کرلیا گیا ۔ جس میں یہ طئے کیا کہ 6 فٹ اراضی کو چھوڑ دیا جائے جس پر مقامی مسلمانوں نے ان کی بات کو مان لیا لیکن اس قبرستان کے بالکل بازو شرپسندوں نے زعفرانی جھنڈا لہراتے ہوئے پھر سے ایک بار مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی جس پر یہاں کے مسلمانوں نے پھر بھی صبر کا مظاہرہ کیا لیکن بار بار مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ۔ مسلمانوں نے ضلع ایس پی سے کہا کہ ان شرپسند عناصر کو سیاسی آقاؤں کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں اگر محکمہ پولیس کسی بھی سیاسی عہدیداروں کی مداخلت کے بغیر اس مسئلہ کو حل کرتی ہے تو ضرور کوئی سراغ ہاتھ لگے گا ۔

واضح رہے کہ مدہول میں مقامی مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج فساد برپا ہوتا ۔ بعد از مسلمانوں نے ڈاگ اسکواڈ کو طلب کرنے کے بعد مسجد سے سیدھا پولیس اسٹیشن کا رخ کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کے روبرو زبردست پرامن احتجاج کرتے ہوئے خاطیوں کو فوری گرفتار کرتے ہوئے مدہول کے حالات کو قابو میں رکھنے کا مطالبہ کیا ۔ ضلع ایس پی گجارام بھوپال ایڈیشنل ایس پی ماناسا ریڈی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ کسی مذہب کی عبادت گاہ میں اس طرح کی حرکت ناقابل برداشت ہی نہیں بلکہ ناقابل معافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شک کی بنیاد پر پولیس 6 افراد کو حراست میں لیتے ہوئے تحقیقات کررہی ہے ۔ ملک معتصم خاں صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا ( آندھرا پردیش ) نے مدہول پولیس اسٹیشن پہنچ کر ضلع ایس پی ایڈیشنل ایس پی ، ڈی ایس پی سے بات چیت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث خاطیوں کو گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ۔ خاطی افراد مدہول کی گنگا جمنی تہدیب کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پولیس کو چاہئے کہ زعفرانی پارٹیوں جو علاقوں کے امن کو درہم برہم کرنے کی کوشش میں ملوث ہیں اسے ناکام بنانے کی بھی بات کہی ہے ۔ بعد ازاں پولیس اسٹیشن کے روبرو سینکڑوں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تیقن دیا ہے کہ کسی بھی فرقہ سے یا کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ اس واقعہ میں ملوث خاطیوں کو نہیں بخشا جائے گا اور پولیس کے ساتھ مسلمانوں کو تعاون کرنے کی اپیل کی جس کے بعد مسلمان پولیس اسٹیشن سے چلے گئے ۔ صبح خنزیر پھینکنے کے واقعہ کے بعد مدہول کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل بند دیکھا گیا

اور اس طرح کا واقعہ رونما ہونے سے سیکولر ہندو مسلم تمام ہی افراد نے عبادت گاہ کی بے حرمتی پر سخت مذمت کی ۔ شہر مدہول کی تمام عبادت گاہوں پر اور حساس مقامات پر پولیس پیکٹ تعینات کردئیے گئے ۔ ضلع ایس پی نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد خاطی پائے جانے پر سخت سے سخت سزا دیتے ہوئے روڈی شیٹ کھولی جائے گی ۔ جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے گی ۔ مسلمانوں سے اپیل کی کہ اس واقعہ کو لے کر مشتعل نہ ہوں بلکہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کا تعاون کریں جب کہ مسلمانوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ گذشتہ ایک سال سے چند شرپسند عناصر پر پولیس کوئی سخت کارروائی نہ کرنے سے آئے دن ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جس کے تدارک کے لیے ضلع انتظامیہ کی توجہ ناگزیر ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT