Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / جامع معاشی شمولیت اسکیم

جامع معاشی شمولیت اسکیم

جشن آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کا تحفہ جامع معاشی شمولیت اسکیم اب تک بینک کی خدمات سے نا آشنا دور دراز کے علاقوں میں اس طرح کی خدمات کی فراہمی کے عمل کو معاشی شمولیت

جشن آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کا تحفہ
جامع معاشی شمولیت اسکیم
اب تک بینک کی خدمات سے نا آشنا دور دراز کے علاقوں میں اس طرح کی خدمات کی فراہمی کے عمل کو معاشی شمولیت
(Finacial Inculusion) کہا جاتا ہے یہ اسکیم 4 نومبر 2006 کو حیدرآباد میں منعقدہ نیشنل بینکنگ کنونشن (Bancon-2006) میں وزیر اعظم نے رسمی افتتاح کیا تھا ۔ اسکیم کے تحت غریب افراد بھی بینک کی خدمات سے استفادہ کے اہل ہیں بنک کی برانچ کے بغیر بینک کی سرگرمیوں ( لین دین ) چلانے کے لیے اس کا بنیادی مقصد حکومت ہند وزارت فینانس کے مقاصد و عزائم میں ریزرو بنک کی اجازت سے بینکنگ کرسپانڈنٹ کے تقرر کے ذریعہ بنکنگ لین دین کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ ملک گیر سطح پر تمام علاقوں کو 2000 سے زائد آبادی والے علاقوں اور 2000 سے کم آبادی والے علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ کم آبادی والے 5 یا 4 دیہاتوں کو ایک کلسٹر بناتے ہوئے وہاں پر ایک بزنس کرسپانڈنٹ کا تقرر کیا گیا ہے ۔ حکومت اور خانگی شعبہ کی شراکت داری سے بینک کا کاروبار چلایا جاتا ہے ۔ یہاں پر بنکنگ کرسپانڈنگ کو بینک کے نمائندہ کا موقف حاصل ہے ۔ الکٹرانک آلات ، ٹیکنیکی معلومات ( نالج ) آوٹ سورسنگ کے ذریعہ خانگی ادارے فراہم کرتے ہیں ۔ تاحال یہ اسکیم مکمل سطح پر مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ تاہم جاریہ سال 15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی جامع معاشی مشمولیت اسکیم (Comprehensive Financial Inculusion) کے نام سے تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ مطلوبہ نشانہ واضح مدت کار کی تاریخ کے ساتھ آغاز کریں گے ۔۔
اہم نکات : ملک بھر میں ہر ایک خاندان کے لیے علحدہ علحدہ بینک اکاونٹس کھولے جائیں ۔ جن میں ایک شوہر کے نام پر اور ایک بیوی کے نام پر ہونا چاہئے ۔
٭ ہر ایک گاؤں میں یا محدود آبادی والے علاقوں میں 5 کلومیٹر کے فاصلہ پر بینک کی خدمات کو یقینی بنایا جائے ۔ جس کے لیے قطعی مہلت 15 اگست 2015 ہے ۔
٭ ’ روپئے ‘ کے نام سے ہر ایک خاندان کے لیے ایک ڈیبٹ کارڈ عطا کیا جائے گا ۔ اس کارڈ پر 5000 روپئے تک بغیر کسی ضمانت (Surety) کے اور ڈرافٹ کی سہولت ہوگی ۔ کارڈ کے حامل شخص کو ایک لاکھ روپئے تک حادثاتی بیمہ ( انشورنس ) حاصل رہے گا ۔۔
٭ سیوینگ اکاونٹ کھولنے کے لیے صرف ایک شناختی دستاویز ( سرٹیفیکٹ ) پیش کرنے کا آسان طریقہ کار ہونا چاہئے ۔
بینکنگ کرسپانڈنٹ کی حیثیت مقامی علاقہ کی معروف شخصیت کا تقرر کیا جائے گا اور انہیں الکٹرانک آلات ( کمپیوٹر وغیرہ ) کے طریقہ استعمال ، بینک کے لین دین پر تربیت دی جائے گی ۔ ہر ایک بینکنگ کرسپانڈنٹ کو ایک بینک کی شاخ کے ساتھ لین دین ( کاروبار ) سے مربوط کیا جائے گا ۔ تمام کھاتہ داروں کو مالیاتی سوجھ بوجھ (Financial Literacy) کے زائد کفایت شعاری ( بچت ) بینک کی مختلف خدمات سے آگہی ، چھوٹے چھوٹے قرضوں کی حصولیابی سے واقف کروایا جائے گا ۔ جمع کھاتوں ، رکر بینک اکاونٹس ، فکسڈ ڈپازٹس ، انشورنس ( بیمہ ) کی سہولت ، حکومت کے مسلمہ فنڈس میں سرمایہ کاری ، محصلہ قرضے ، قسطوں کی ادائیگی ، حکومت کو واجب الادا رقومات اور دیگر معاملات پر شعور بیدار کیا جائے گا ۔ مستقبل میں یہ کھاتے ( اکاونٹ ) غریبوں ، دور دراز کے گاؤں میں قیام پزیر دیہاتیوں ، دلتوں کھیت مزدوروں ، طلباء ، وظیفہ یابوں کے لیے کار آمد ثابت ہوں گے ۔
سرکاری اسکیمات کے ذریعہ دی جانے والی سبسیڈی ( مراعات ) راست استفادہ کنندگان کے کھاتوں میں جمع کردی جائے گی ۔ اس طریقہ کو Direct Benefit Transfer – DBT کہا جاتا ہے ۔ گیس سبسیڈی ، پنشن ، دیہی روزگار ، اسکیم کی یومیہ اجرت ، اسکالر شپس ، زرعی کھاد کی سبسیڈی ، انشورنس اسکیمات کی نقد رقومات ، راست استفادہ کنندگان کے کھاتوں میں جمع کردی جائے گی ۔
تاہم کھاتہ داروں کو بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ہوں گے ۔ بزنس کرسپانڈنٹ کے تقرر کے ساتھ ہی فی الفور اپنے اپنے کھاتے کھولیں ۔ لمحہ آخر میں ضرورت کے وقت سب مل کر ہجوم کی شکل میں جانے سے ایک طرف بینکرس کو دوسری طرف سرکاری دفاتر اور گیس ایجنسی کو مشکلات درپیش ہوں گے ۔ جس کے نتیجہ میں عوام کو بھی تکالیف ہوں گی ۔ چونکہ کمپیوٹر میں تفصیلات انگریزی زبان میں درج کی جاتی ہیں ۔ لہذا نام الفاظ اور املا کی غلطیاں نہ ہونے کے لیے احتیاط سے کام لیں ۔ آدھار کارڈ میں 12 اعداد کا صحیح طریقہ سے اندراج کرواتے ہوئے ایک سے زائد مرتبہ ( دیکھ لیں ) چیک کرلیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT