Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / جان لیوا بیماریوں سے متاثرہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں ،میک اے وش فاونڈیشن کی خدمات

جان لیوا بیماریوں سے متاثرہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں ،میک اے وش فاونڈیشن کی خدمات

ہندوستان بھر میں 17 سال کے دوران 22 ہزار بچوں کی خواہشیں پوری کرنے کا اعزاز

ہندوستان بھر میں 17 سال کے دوران 22 ہزار بچوں کی خواہشیں پوری کرنے کا اعزاز
حیدرآباد ۔ 18 اکٹوبر ۔ دنیا کے جس معاشرہ میں انسانیت نہ ہو اس معاشرہ کو درندگی کی نمائندگی کرنے والا خونخوار معاشرہ کہا جاتا ہے۔ محبت و مروت، مدد و ہمدردی، ایثار و قربانی، انسانیت دوستی، برائیوں سے نفرت، اچھائیوں سے قربت، مہذب معاشروں کی خوبیاں اور ان کی پہچان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہیکہ دنیا کے ہر مذہب نے انسانیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ دین اسلام نے انسانیت کا سب سے زیادہ درس دیا ہے۔ پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’’تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جس کے اخلاق بہتر ہوں‘‘۔ اسلام نے بیماروں کے علاج اور ان کی عیادت پر بھی نیکیوں اور ثواب کی خوشخبری سنائی ہے۔ آج بھی مسلمان مصیبت زدگان کی مدد، بیماروں کو علاج کی فراہمی اور ان کی تیمار داری و عیادت سے پہچانے جاتے ہیں۔ قارئین وہی انسان بڑا ہوتا ہے جو دوسروں کے کام آئے۔ خدمت خلق میں ایک بڑی خدمت یہ بھی ہیکہ ہر رونے والوں کے آنسو پونچھے جائیں۔ بھوکوں کو کھانا کھلایا جائے اور مریضوں کی تیمارداری و عبادت کے ساتھ ساتھ انہیں تسلی دی جائے تاکہ مریضوں کے چہروں پر فکر و پریشانی کی بجائے مسکراہٹیں پھیل جائیں۔ مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیلانے اور ان کی دلی آرزوؤں کو پوری کرنے میں کئی تنظیمیں مصروف ہیں۔ ان میں ’’میک اے وش فاونڈیشن‘‘ نامی تنظیم سرفہرست ہے۔ یہ تنظیم کا کام ہی ان کمسن مریضوں کی خواہش پوری کرنا ہے جو جان لیوا بیماریوں جیسے کینسر وغیرہ میں مبتلاء ہوکر اپنی زندگی کے آخری دن گن رہے ہوں۔ حال ہی میں میک اے وش فاونڈشین نے کریم نگر کے رہنے والے 10 سالہ محمد صادق کی دیرینہ آرزو پوری کی۔ خون کے کینسر سے متاثرہ اس لڑکے کی یہی خواہش ہیکہ وہ بڑے ہوکر اعلیٰ پولیس آفیسر بنے اور لوگوں پر ظلم کرنے والے غنڈوں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ انسان سوچتا کچھ ہے اور اس کے ساتھ ہوتا کچھ ہے۔ محمد صادق کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ خون کے کینسر میں مبتلاء ہوگیا۔ ہر روز اس کیلئے انتہائی صبرآزما بنتا جارہا ہے لیکن جب محمد صادق کی آرزو سے ’’میک اے وش فاونڈیشن‘‘ والوں کو واقف کروایا گیا تب ان لوگوں نے کمشنر پولیس حیدرآباد سے ربط پیدا کرتے ہوئے انہیں اس کمسن بیمار بچے کی خواہش سے واقف کروایا۔ اسی طرح صادق کو ایک دن کیلئے کمشنر حیدرآباد کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اپنی خواہش کی تکمیل پر صادق کے چہرہ پر خوشی کے غیرمعمولی تاثرات ابھر آئے۔ صادق کے والد محمد رحیم الدین کے مطابق ان کے بیمار بیٹے کی خواہش پوری کرنے پر وہ ایسا ہشاش بشاش ہوگیا ہیکہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ قارئین ! میک اے وش فاونڈیشن نے صادق کی طرح کینسر اور دیگر جان لیوا امراض میں مبتلاء ایک نہیں دو نہیں بلکہ تقریباً 22000 بچوں کی آرزوؤں کو پورا کیا ہے۔ میک اے وش فاونڈیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہیکہ وہ زندگی کے آخری مراحل سے گذرنے والے بچوں میں امید، طاقت اور خوشی پیدا کرنے کیلئے ان کی تمناؤں کو پورا کرتے ہیں اکثر بچے جو اپنی زندگی کے آخری ایام میں جن تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں، ان میں کمشنر پولیس کے فرائض انجام دینا، عامر خان، سلمان خان، شاہ رخ خان جیسے اداکارؤں سے ملاقات، کسی فیشن ڈیزائنر اور ماہر پکوان شیف کے ساتھ وقت گذارنا، پریوں اور شہزادیوں کا لباس زیب تن کرنا، کسی ریاست کے چیف منسٹر اور مذہبی قائدین سے ملنا یا پھر تفریحی مقامات کی سیر کرنے کی خواہش شامل ہیں۔ واضح رہیکہ جان لیوا بیماریوں میں مبتلاء بچوں کی خواہشوں کو پوری کرنے والے میک اے وش فاونڈیشن کا قیام 1980ء میں امریکہ کے ایک بیمار کمسن لڑکے کرسٹوفر گریس کی یاد میں عمل میں آیا تھا۔ خون کے کینسر میں مبتلاء اس لڑکے کو بڑے ہوکر ہائی وے پٹرول میان بننے کا شوق تھا۔ آخری دنوں میں کریس کے والدین نے اس کی خواہش پوری کی اور وہ ایریزونا میں ہائی وے پٹرول میان بنایا گیا۔ اس خواہش کے پوری ہونے کے بعد وہ انتقال کر گیا لیکن گریس کی ماں نے اپنے بیٹے کی طرح بیمار بچوں کی خواہشوں کو پورا کرنے کا بیڑا اٹھا کر میک اے وش فاونڈشین قائم کردی۔ 1995ء میں ہندوستان کے مسٹر اودے جوشی اور مسٹر گپتا جوشی نے چھوٹے بیٹے گندھر کو جو کینسر سے متاثر تھا، علاج کیلئے امریکہ گئے لیکن گندھر ڈزنی لینڈ کی سیر کرنے کی شرط رکھی اس طرح وہاں میک اے وش فاونڈیشن نے گندھر کی آخری خواہش پوری کی۔ ہندوستان واپسی کے چند دنوں بعد گندھر فوت ہوگیا۔ گندھر کے والدین نے ہندوستان میں اس طرح کی تنظیم قائم کرنے کا تہیہ کرلیا اور پھر 1996ء میں اس فاونڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ فاونڈیشن تلنگانہ آندھراپردیش، گوا، گجرات، کرناٹک، مہاراشٹرا، راجستھان، تاملناڈو، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں کام کرتی ہے۔ 17 سال کے دوران اس نے 22000 بچوں کی تمنائیں پوری کی ہیں۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT