Tuesday , December 11 2018

جاپان : برسوں غائب ہونے کے بعد ننجا پھر ابھر آیا

ٹوکیو ، 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جاپان میں حکام نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اپنی تاریخ کے مشہور ترین ’ننجا‘ کو پھر سے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر کے گورنروں اور میئروں نے ’ننجا کونسل‘ بنائی ہے اور اخبار ’جاپان ٹائمز‘ کے مطابق اس نئے اقدام کے تحت کونسل کے شرکاء اس پر تیار ہو گئے ہیں کہ وہ دفتری لباس پہننے کی بجائے ای

ٹوکیو ، 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جاپان میں حکام نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اپنی تاریخ کے مشہور ترین ’ننجا‘ کو پھر سے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر کے گورنروں اور میئروں نے ’ننجا کونسل‘ بنائی ہے اور اخبار ’جاپان ٹائمز‘ کے مطابق اس نئے اقدام کے تحت کونسل کے شرکاء اس پر تیار ہو گئے ہیں کہ وہ دفتری لباس پہننے کی بجائے ایسے کپڑے زیب تن کریں گے جو ننجا کیلئے مخصوص ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ بھیدوں سے بھری ننجا کی کہانیاں سیاحوں کو جاپان واپس لانے میں مدد دیں گی۔ ہیروشی میزوہاتا جو جاپان میں فروغِ سیاحت کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں کہتے ہیں ’’جہاں بھی آپ جائیں یہ (ننجا کا) موضوع بار بار زیرِ بحث آتا ہے‘‘۔ مقامی کونسلوں اور سیاحت کے فروغ کے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ننجا کی ان پوزیشنوں کو اجاگر کریں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہونے والے ننجا قاتل تاریخی طور پر اختیار کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ یہ ادارے ننجا سے متعلق دیگر پروگراموں کا بھی انعقاد کریں گے۔ آئیکا سوزوکی جو جاپان کے علاقے مائی پریفیکچر کے گورنر ہیں اور جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ خود ننجا والا سیاہ لباس پہنا، کہتے ہیں کہ ’ننجا کے ذریعے ہم اپنی کمیونیٹیز کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT