Wednesday , December 12 2018

جاپان میں دو ملزمین کی سزائے موت پر عمل آوری

ٹوکیو ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جاپان نے آج سزائے موت پانے والے دو مجرمین کی سزاء پر عمل آوری کردی جن میں سے ایک مجرم ایسا تھا جس نے اس بھیانک جرم کا ارتکاب ایک ایسے وقت کیا تھا جب وہ سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچا تھا۔ وزارت انصاف نے یہ اطلاع دی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اب قطعی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جاپان نے بین الاقوامی حقوق گروپس کی سزائے موت کو ختم کرنے کی اپیلوں پر کوئی توجہ نہ دیتے ہوئے مجرمین کو تختۂ دار پر لٹکادیا۔ تیروہیکوسیکی اور کیوشی ماتسوئی کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد قدامت پسند وزیراعظم شینزوابے کے 2012ء میں اقتدار پر آنے کے بعد سزائے موت پانے والے مجرمین کی جملہ تعداد 21 ہوگئی۔ 44 سالہ سیکی پر ٹوکیو کے مستقر چیبا میں چار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دینے پر سزائے موت دی گئی تھی۔ اس جرم کا اس نے 1992ء میں اس وقت ارتکاب کیا تھا جب اس کی عمر 19 سال تھی جبکہ جاپان میں 20 سال کی عمر والوںکو بالغ تصور کیا جاتا ہے۔ 69 سالہ ماتسوئی کو اپنی گرل فرینڈ اور اس کے (گرل فرینڈ) والدین کو 1994ء میں قتل کرنے کا قصوروار پایا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT